خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 593 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 593

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۳ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب پڑھوں گا۔قرآن کریم نے کہا۔إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (الفتح :۲) اور اس فتح مبین اور ت عظیم کی ایک بڑی زبر دست تجلی فتح مکہ کے موقع پر ظاہر ہوئی۔اس دن ایک مالک اور قادر کی حیثیت سے ( اللہ تعالیٰ کے مظہر ہونے کی حیثیت سے اس میں کوئی شک نہیں ) آپ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے۔عدل کرنے کے لئے بلکہ مالکیت کا جلوہ دکھانے کے لئے مکہ کی سرزمین میں قدم رکھا۔وہ لوگ جنہوں نے مکی زندگی کے تیرہ سال آپ کو اور آپ کے متبعین کو انتہائی تکالیف اور دکھ پہنچائے تھے اُن سے کہا بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی توقع رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔اس وقت تک اہل مکہ یہ سمجھ چکے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کے بھی مظہر اتم ہیں۔چنانچہ اس فتح عظیم کے دن جب کہ اہلِ مکہ کی قسمتوں کا فیصلہ ہو چکا تھا۔آپ نے ان سے فرمایا کہ جاؤ تمہیں معاف کیا اور معاف بھی کیا تو اس رنگ میں کیا کہ کہا میں تمہارے پاس نہیں ٹھہرتا کیونکہ اس سے میری اس صفت میں فرق آتا ہے۔آپ اور آپ کے صحابہ کی جائیدادیں آپ کے وہ مکانات اور حویلیاں جو مکہ اور اس کے گردو نواح میں چھوڑی تھیں وہ آپ نے واپس نہیں لیں۔آپ نے فرمایا میں خدا کا پیغام لے کر تمہاری طرف آیا تھا۔تم نے مجھے قبول نہیں کیا اور تم نے ہماری جائیدادوں پر قبضہ کر لیا اور ہمیں مکہ سے باہر نکال دیا۔اب میں خدا کی صفت مالکیت کا مظہر اتم ہونے کی حیثیت میں تمہارے پاس آیا ہوں۔یہ جائیدادیں یہ مال و متاع یہ کوٹھیاں یہ حویلیاں سب تمہیں دیتا ہوں۔یعنی مالک ہونے کے لحاظ سے یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ کسی چیز کا بھی تم سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔جاؤ خدا کی فوج میں داخل ہو جاؤ اور خدا کی نعمتوں پر شکر بجالاؤ۔پس قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاروں ام الصفات کے کامل اور اتم طور پر مظہر ہیں۔یہ چاروں صفات وہ ہیں جس کا بیان ہمیں سورۃ فاتحہ میں نظر آتا ہے۔ایک حدیث بھی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے لوائے حمد عطا کیا گیا ہے اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ آپ ان صفات باری کے مظہر اتم تھے جو بنیادی طور پر سورہ حمد میں پائی جاتی ہیں۔اُن کا آپ کو جھنڈ ا عطا کیا گیا ہے۔میں نے وقت کی مناسبت سے چھوٹی چھوٹی مثالیں دی ہیں۔قرآن کریم نے سورہ حمد میں