خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 581 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 581

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸۱ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِن الْمُسْلِمِينَ ( حم السجدة : ٣٤) امت محمدیہ کا کوئی فرد اول المسلمین تو ہو نہیں سکتا لیکن اپنے دائرہ استعداد میں مسلمین۔گروہ میں تو وہ یقینا شامل ہوسکتا ہے۔کے یہ تو اُس اسوۂ نبوی کا ایک پہلو تھا جو بنیادی طور پر قرآنِ کریم میں بیان ہوا ہے۔دوسرا پہلو ہمارے سامنے یہ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قو تیں دی ہیں وہ اپنی صفات کا مظہر بننے کے لئے دی ہیں۔چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتیں اور استعداد میں سب سے بڑھ کر اور کامل تھیں اور آپ ان قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کامل طور پر کی تھی۔اس لئے آپ صفات باری کے مظہر اتم بن گئے تھے۔اس طرح کہ انسان کو جو بھی طاقتیں دی گئی ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے دی گئی ہیں۔کیونکہ انسان کو تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔انسان کی زندگی کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اس کی زندگی پر چڑھ جائے۔یہی اس کی جنت ہے اور اس سے دوری اس کے لئے جہنم ہے۔پس اسوۂ نبوی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ خود تو صفات باری کے مظہر اتم ہیں۔کیونکہ آپ کو کامل استعداد میں عطا ہوئی تھیں اور آپ نے ان کی نشو و نما کو کمال تک پہنچا دیا تھا مگر ہمیں یہ فرمایا کہ اپنی قوتوں اور طاقتوں کی نشو ونما کے بارے میں ہمیشہ یہ دیکھتے رہنا کہ اگر ان کی نشو و نما کے نتیجہ میں ہماری زندگی پر خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ چڑھ جائے تو یہ گویا اُن کی صحیح نشو ونما کے مترادف ہے۔اگر تمہاری کوششوں کے نتیجہ میں تمہاری زندگی پر خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ نہیں چڑھتا تو تمہاری کوشش غلط ہے۔پس اس میں ہمیں ایک راستہ بتایا اور ایک مقصد ہمارے سامنے رکھا اور ہمیں یہ کہا گیا کہ دیکھو! حضرت نبی کریم اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں۔نہ صرف اپنے مقام کے لحاظ سے مظہر اتم بلکہ اپنی اصلیت کے لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں۔اس لئے تمہارے وہ اسوہ ہیں۔تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنے اپنے دائرہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر بنو۔یہ تو تھا دوسرا پہلو۔تیسرا اصول جو قرآنِ کریم نے ہمیں بتایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات میں ہمیں حسنِ کامل اور احسان کامل نظر آتا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات