خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 582 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 582

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸۲ --- ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب کے مظہر اتم ہیں۔قریباً قریباً ساری خدائی صفات آپ کی زندگی میں جلوہ گر ہیں۔اس لئے ہم خدا تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ خدا کی مخلوق خدا نہیں بن سکتی لیکن خدا کی مخلوق جب خدا کے قریب تر پہنچ سکتی ہے اور حضرت محمدؐ کی ذات میں پہنچی ہے تو ہمیں آپ کی ذات میں خدا کی وہی شکل اور کیفیت نظر آتی ہے۔جو قرآنِ کریم میں بیان ہوئی۔پس ایک تو جہاں تک انسان اپنے حسن کو دوبالا کر سکتا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں وہ دوبالا ہو چکا ہے اور جہاں تک کوئی انسان خدا تعالیٰ کے احسان کی صفات کو اپنی زندگی میں جلوہ گر کر سکتا تھا۔وہاں تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احسان کی صفات جلوہ گر ہیں۔گویا آپ حسن و احسانِ صفات باری کے مظہر اتم ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفتِ حُسن سے کیا مراد ہے؟ اور اللہ تعالیٰ کی صفتِ احسان سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں وضاحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی صفات اپنے نفس میں حسنِ باری ہیں۔مثلاً یہ تصور کہ ایک ایسی ذات ہے جس نے تمام عالمین کو پیدا کیا اور وہ اُن کی ربوبیت کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔یہ ربوبیت کی صفت ایک حُسن ہے۔رحمانیت کی صفت ایک حُسن ہے۔رحیمیت کی صفت ایک حُسن ہے اور مالکیت یوم الدین کی صفت ایک حسن ہے لیکن جب یہی صفات جو اپنے نفس میں حسنِ باری تعالیٰ کو ظاہر کر رہی ہیں کسی فرد یا جماعت پر جلوہ گر ہوتی ہیں اور ان کو فائدہ پہنچاتی ہیں تو فرد یا جماعت کے لئے احسان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا رب ہونا اس کے حُسن کی علامت ہے اور خدا تعالیٰ کا اپنے رب ہونے کے لحاظ سے ہر کس و ناکس کی ربوبیت کرنا اُس کے احسان کی علامت ہے گو یا اللہ تعالیٰ کا ہر فرد بشر کی یا جماعت پیدا کر کے اُس کی ربوبیت کے طور پر اس میں ایک انقلاب عظیم بپا کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کو ظاہر کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی صفات میں حسن بھی کامل اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں احسان کے کامل جلوے بھی نظر آتے ہیں اور یہی حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بھی ہے۔آپ کی زندگی میں بھی حسن واحسان کے جلوے نظر آتے ہیں۔انسان ہونے کی جو حد ہے اُس میں ہم سب برابر ہیں لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسن و احسانِ باری میں یکتا اور انسان کامل ہیں اس لئے وہ منفرد ہیں۔ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اس بات میں ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے لئے اسوہ حسنہ بنایا