خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 550
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب مسجد اپنے ضلع میں سکھایا کرو۔پھر ہمارے پاس بھیج دیا کرو۔پھر اگلے سبق ہم سکھایا کریں گے۔چنانچہ اس سال یہ تجربہ کیا گیا ہے۔میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ یہ طریق خاطر خواہ کامیاب نہیں رہا۔اس کام کے انچارج ابو العطاء صاحب بھی کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں بھی یہ طریق اتنا کامیاب نہیں ہوا۔اس لئے ساری جماعت کے سامنے ایسے امراء جواب دہ ہیں کہ وہ کیوں ایک ہفتہ تک بھی جماعت کے بچوں کو سنبھال نہیں سکے۔یہاں مرکز میں جب وہ آئیں گے اور انشاء اللہ بہت زیادہ تعداد میں آئیں گے تو ہم ان کو سنبھالیں گے۔لیکن چونکہ یہ کلاس گرمیوں میں ہوتی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں خود یہاں نگرانی نہیں کروا سکتا کیونکہ گرمی میرے لئے بیماری بن چکی ہے۔خون میں شکر آنے لگ جاتی ہے۔بعض دفعہ تو تکلیف بڑھ جاتی ہے۔جس سے بعض اور عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔اس واسطے گرمیوں میں مجھے کسی نہ کسی ٹھنڈے مقام کی طرف جانا پڑتا ہے۔ورنہ میں کام نہیں کر سکتا۔کام تو میں جہاں بھی جاؤں کرتا ہوں۔یہ تو نہیں کہ میں چھٹی پر ہوتا ہوں لیکن بہر حال ربوہ سے باہر ہوتا ہوں۔ویسے ان دنوں میں بھی ایک دو دفعہ ربوہ آجا تا ہوں۔جہاں تک اس کلاس کی تعداد کا تعلق ہے اس میں ہمارے بچے اور نو جوان خاصی بڑی تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔تاہم بچیاں سبقت لے جاتی ہیں۔بہت ساری جگہیں ہیں جہاں ہماری بچیاں آگے نکل رہی ہیں اس جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے نو جوانوں کو اپنی فکر کرنی چاہئے کیونکہ اس تقریر کی آواز زنانہ جلسہ گاہ میں بھی پہنچ رہی ہے ان کو میں نہیں کہہ رہا۔چنانچہ اس سال فضل عمرؓ درس القرآن کلاس میں ۳۹۱ طلبہ اور ۴۰۹ طالبات شامل ہوئیں اور میں سمجھتا ہوں اور میرا تاثریہ ہے کہ طالبات اپنے نتیجہ کے لحاظ سے بحیثیت مجموعی طلبہ سے آگے نکل گئی ہیں۔یعنی اول دوم آنے کے لحاظ سے نہیں لیکن جتنی فیصد طالبات ساٹھ فیصد سے زیادہ نمبر لیتی ہیں اتنے فیصد طلبہ ساٹھ فیصد سے زیادہ نمبر نہیں لیتے۔یعنی عام طور پر طالبات کا نتیجہ زیادہ اچھا ہوتا ہے کیونکہ وہ زیادہ انہماک کے ساتھ درسوں کو سنتی اور یا د رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی یعنی ہماری بچیوں کو مغربی تہذیب کی بدعنوانیوں سے محفوظ رکھے اور وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ اسلام کی اس آخری جنگ، اس غالب جنگ اور اس فتح مند جنگ میں حصہ لینے والی ہوں۔یہی نظارت مجلس ارشاد