خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 501
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۰۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب علاقے کے لئے یا ملک کے لئے یا دُنیا کے بہت سے حصوں کے لئے دُکھ اور درد مصیبت اور پریشانی اور انتشار کے حالات پیدا ہوتے ہیں ان کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو نظام ہمیں دیا ہے جو ہتھیار ہمارے ہاتھ میں پکڑایا ہے اس کی تو نظیر کہیں نہیں ملتی اور ہم فتنہ وفساد کئے بغیر اس کے سوا دنیا کے دکھوں کو دور بھی نہیں کر سکتے۔اب یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ اس حصے سے دُکھ دور کر کے اس حصے میں دُکھ بڑھا دیئے جائیں مثلا انگریز نے اپنے ملک کا دُکھ دور کر دیا مگر ہمیں لوٹ کر لے گئے، افریقہ کو لوٹ کر لے گئے کہنے کو وہ بڑا امیر ملک ہے لیکن ان کی دولت تو چور کی دولت تھی اب وہ دولت کم ہورہی ہے اور وہاں مصیبت آ رہی ہے جو لوگ جا کر دیکھتے ہیں ان کو اس کا رد عمل معلوم ہوتا ہے عادتیں گندی پڑی ہوئی تھیں اس لئے اب اخلاقی تباہی کی طرف جارہے ہیں۔آپ کی دولت تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے پیدا کی تھی اور صرف اس حد تک ہے اور اسی تعریف کے ماتحت ہے کہ آپ کو اپنی تمام قوتوں کی کمال نشو ونما کے لئے جتنی ضرورت ہے وہ آپ کی دولت ہے اس سے بڑھ کر آپ کی دولت نہیں ہے۔اب یہ نعرہ لگانا کہ جس کی وہ دولت نہیں ہے وہ اس سے چھین لی جائے گی۔اس نعرے کے مترادف نہیں کہ اشتراکی نظام کو یہاں قائم کیا جائے گا۔اس میں تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔اشتراکیت کہتی ہے ( صرف کتابوں کا کہنا نہیں بلکہ انہوں نے ۱۹۱۷ ء میں جو عمل کر کے دکھایا ہے ) کہ ہم نے امیر کی دولت بھی لینی ہے اور ہم نے اس کی جان بھی لینی ہے پہلے ایک محروم تھا اب دوسرا محروم بنا دیا گیا۔ہم یہ مان لیتے ہیں کہ پہلے زیادہ محروم تھے اب تھوڑے ہو گئے۔لیکن ایک محرومی کو ایک اور محرومی پیدا کر کے دُور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے اشارہ کیا ہے اس میں بھی انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔اسلام یہ نہیں کہتا اسلام کہتا ہے کہ امیر ہو یا غریب خدا کا بندہ ہے اور اس کو یہ حق حاصل۔کہ اس کی ذہنی قوتوں کی نشو و نما کمال تک پہنچے اگر ایک ذہین بچہ امیر کے گھر میں پیدا ہوتا ہے تو اس کو بھی اتنا ہی حق حاصل ہے کہ اس کی ذہنی قوتوں کی نشو و نما کمال تک پہنچائی جائے جتنی اس بچے کی ذہنی قوتوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچانا ضروری ہے جو ایک غریب کے گھر میں پیدا ہوتا ہے۔غرض جتنا حق ایک غریب ذہین بچے کا ہے کہ اس کی قوتوں کو نشو و نما کے کمال تک پہنچا دیا جائے اتنا ہی حق ایک امیر گھرانے میں پیدا ہونے والے ذہین بچے کا ہے۔