خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 500
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) آپ کی بعثت کی ایک بڑی فرض تھی۔۵۰۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب پہلے زمانے میں یعنی آپ کی نشاۃ اولیٰ میں ابھی انسان نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ وہ اس مقصد کو حاصل کر سکے ( گوانسانی ذہن اتنی ترقی کر چکا تھا کہ وہ ایک کامل اور مکمل شریعت کا حامل بن سکے ) اور بشارت یہ دی گئی تھی کہ مہدی معہود کے زمانے میں اور آپ کی جماعت کے ذریعہ اللہ تعالی اپنی اس بشارت کو پورا کرے گا۔تو سوچا آپ پر کتنی ذمہ داری ہے۔ساری دنیا کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے ہیں اور جیتنے بھی ان وسائل سے اور ان ذرائع سے اور اگر مثال کے طور پر ایک اور لفظ استعمال کروں تو کوئی حرج نہیں ان ہتھیاروں کے ساتھ ( میں یہ الفاظ بولنے سے ہچکچاتا ہوں اس لیے کہ عیسائی پادریوں نے عیسائیوں کے دل میں یہ بات میخ کی طرح گاڑھی ہوئی تھی کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے ) اس لیے جب میں ہتھیار کہتا ہوں تو اس سے میری مراد تلوار نہیں ہے بلکہ اس سے میری مراد روحانی ہتھیار ہیں، اخلاقی ہتھیار ہیں، حسن تعلیم کے ہتھیار ہیں۔احسان ہدایت کے ہتھیار ہیں۔ہم نے ان کے ذریعہ دنیا کے دلوں کو جیتنا ہے اور ہمیں یہ جو ہتھیار دیئے گئے ہیں۔یہ ایسے ہتھیار ہیں کہ ہر شخص جو اپنی Senses میں ہو ہر شخص جو مجنوں نہ ہو ہوش وحواس میں ہو وہ یہ ماننے پر مجبور ہوتا ہے کہ اگر یہ ہتھیار اگر یہ ذرائع استعمال۔جائیں تو واقع میں نوع انسان کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جیت لیے جائیں گے۔ان ہتھیاروں میں سے جن کا میں نے یہاں ذکر کیا ہے ایک تو شرف انسانی ہے دوسرے انسان انسان کے درمیان مساوات ہے تیسرے اقتصادی لحاظ سے ضروریات زندگی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی ادائیگی ہے اور دکھوں کو دُور کرنا ہے۔یہاں مجھے یاد آ گیا۔ایک حصہ میں اس کا چھوڑ گیا ہوں جو حوادث زمانہ کے لحاظ سے دُکھوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔حوادث زمانہ کے لحاظ سے جودُ کھ انسان کو پہنچتے ہیں یا پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں روحانی سامان دیئے ہیں اور وہ پریشانیوں کو دور کر دیتے ہیں مثلا ذکر الہی ہے استغفار ہے لاحول پڑھنا ہے قرآن کریم کی تلاوت ہے۔بہت سارے ہتھیار ہیں لیکن یہ اشارہ ہی اس کی طرف اس وقت کافی ہے۔بہر حال جو محرومی کے نتیجہ میں اور مظلوم ہونے کے نتیجہ میں فرد کے لئے یا خاندان کے لئے یا