خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 499
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۹ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب اور ہلاکت کا جو خطرہ پیدا ہو رہا ہے یہ دُور ہو جاتا ہے کیونکہ کسی کو حاکم نہیں بنایا گیا، کسی کو ظالم نہیں بنایا گیا کسی کوسپیرئیر (Superior) یا برتر نہیں بنایا گیا۔کسی کو برائی کا حق نہیں دیا گیا بلکہ ہر فر دکو خادم بنایا گیا ہے۔اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ بنایا گیا ہے۔ہر فرد دوسرے کی بھلائی کرنے کے لئے پیدا گیا ہے۔یہ ایک عظیم ہتھیار ہے دُنیا کی کون سی قوم ہے جو یہ کہے کہ تم ہماری خدمت کرنا چاہتے ہو لیکن اپنی خدمت کے نتیجہ میں تم ہمارے دل نہیں جیت سکتے۔میں افریقہ والوں کو یہ کہتا رہا ہوں کہ پچاس سال سے ہم تمہارے پاس ہیں۔تم جانتے ہو کہ ہمیں نہ تمہاری سیاست میں کوئی دلچسپی ہے نہ تمہارے مال میں کوئی دلچسپی ہے۔باہر سے پیسے لاتے ہیں تم پر خرچ کر دیتے ہیں۔تمہارے ملک میں کماتے ہیں ( ہمارے کلینک ہزاروں پاؤنڈ کما چکے ہیں ) وہ بھی تم پر خرچ کر دیتے ہیں۔پچاس سال میں ایک دھیلہ تمہارے ملک سے باہر لے کر نہیں گئے ہم لاکھوں روپے باہر سے لائے اور تم پر خرچ کر دیئے۔پس اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہمیں (یعنی زبان تو میں ایسی بولتا تھا کہ ان کو سمجھ آ تم جائے اور تفصیل اسی فقرہ کی ہوتی تھی جو کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے۔اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِس اللہ تعالیٰ نے دوسروں کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے اور دیکھ لو ہم خدمت کر رہے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے تھے ٹھیک ہے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے نہ ہمارے مال میں کبھی دخل دیا نہ ہماری سیاست میں دلچسپی لی۔ان کی حکومت کو بھی پتہ ہے اور اسی وجہ سے ہم ان کے دل جیتنے کے لیے چلے جا رہے ہیں۔ہم ان کی خدمت کرنے کی وہاں جو تو فیق پاتے ہیں اس کے نتیجہ میں وہ اتنی خوشی اور مسرت اور پیار کے خط لکھتے ہیں کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔وہ سارا پیار تو دراصل حضرت نبی اکرم کی طرف رجوع کرتا ہے جن سے ہم نے یہ تعلیم حاصل کی اور جن کا رنگ چڑھا کر ہم عملاً اس قابل بنے کہ دنیا کو یہ نمونہ دکھا سکیں۔اتنا اثر ہے میں ابھی آگے اس حصہ کو لوں گا۔کچھ نمبر ۲ جو حصہ تھا میری تقریر کا اس سلسلہ میں کچھ باتیں رہ گئی ہیں لیکن جو میں نے کہا ہے وہ کافی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم کو تمام جہانوں کا دل خدا کے لیے جیتنے کی خاطر مبعوث کیا تھا اور نہ صرف اس مکان کے لوگ جہاں آپ پیدا ہوئے یعنی نہ صرف عرب کے دلوں کو جیتنا تھا بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والی ہر نسل کے دلوں کو جیتنا تھا یہ ایک بشارت تھی اور