خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 494

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب مجھے اس سے غرض نہیں کہ اس بچے کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے بلکہ مجھے تو اس سے غرض ہے کہ وہ بچہ پڑھ جائے تو میری غرض پوری ہو جائے گی پندرہ دن کے بعد مجھے اس لڑکے کا خط آیا جس میں اس نے بڑے پیار سے لکھا کہ میرا باپ ان پڑھ ہے وہ ان چیزوں کی سمجھ نہیں رکھتا؟ آپ نے مجھ سے جو پیار کا سلوک کیا ہے میں اس کی قدر جانتا ہوں۔جب آپ نے اخبار میں یہ اعلان کیا تو کئی امیر آدمیوں نے کہا کہ نہیں ! نہیں۔احمدیوں کے کالج میں نہیں جانا ہم تمہارا خرچ برداشت کرتے ہیں۔اس نے لکھا کہ اس وظیفہ کے باوجود میرے دل میں یہی خواہش تھی اور اب بھی ہے کہ میں آپ کے پاس آجاؤں لیکن چونکہ والد کا کہنا ماننا ضروری ہے۔میرا والد کہہ دے گا کہ وہاں نہیں جانا اس لئے میں آپ کے پاس نہیں آ سکتا۔لیکن اگر ہمارے علم میں نہ آتا اور اس قسم کا واقعہ نہ ہوتا تو آپ سوچ لیں کہ اس خاندان کو ساری عمر یہ دُکھ پہنچتا رہتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے بچے کو اتنی سمجھ اور عقل دی تھی مگر وہ آگے نہیں پڑھ سکا۔پس یہ دُکھ تو لمبے بھی ہیں اور چھوٹے بھی ہیں۔بہر حال محرومی ایک لعنت ہے اور مظلوم ہونا لعنتی بنانے کا ایک آلہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو آدمی کسی مظلوم کو دیکھتا؟ ہے اور اس کی مدد نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے دور اور ملعون ہے۔اسلام نے جس حق کو قائم کیا ہے اور میرے نزدیک جہاں تک انسانی دماغ نہ پہنچا اور نہ پہنچ سکتا تھا وہ یہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو مخاطب ہو کر فرمایا اے میرے بندے! میں نے تجھے پیدا کیا ہے اور تو اپنے جسم اور ذہن اور روح میں جو قوت اور استعداد دیکھ رہا ہے یہ بھی میں نے پیدا کی ہے۔لیکن اس دُنیا میں میں نے تدریج کا اصول رائج کیا ہے۔ایک قوت دی ہے اس کی نشو و نما ہونی چاہیے۔ایک قابلیت عطا کی ہے اس کو پروان چڑھنا چاہئے تمام قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کے لئے اور اس کی نشو و نما کو کمال تک پہنچانے کے لئے جس مادی اور غیر مادی چیز کی ضرورت تھی وہ میں نے یعنی رب العالمین نے پیدا کر دی ہے دنیا میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں شخص نے اپنی قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما اس لئے نہیں کی کہ اُس کے رب نے اُسے بھلا دیا تھا۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا ہمارے رب نے وہ اشیاء پیدا کر دی تھیں۔اگر اس کو نہیں ملتیں جو اس کی قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کے لئے ملنی چاہئیں تھیں تو کوئی غاصب ہے، کوئی ظالم ہے جس