خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 440

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب جس حالت میں بھی ہوں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں اَلحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة : ٢) كا کثرت سے ورد کریں۔ساٹھ ستر ہزار بلکہ لاکھ کے قریب مردوزن یہاں جمع ہو جاتا ہے ایک دفعہ اگر پانچ سیکنڈ میں الحمد للہ پڑھ رہے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک لاکھ الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی جارہی ہوگی مگر اس کا ایک تانتا بندھا رہنا چاہیئے ہر وقت الحمد للہ کا یہ ورد آسمانوں کی طرف بلند ہوتا رہنا چاہیئے بیچ میں کہیں روک پیدا نہ ہو یا کوئی وقفہ نہ آئے کہ جس میں الحمد لله نہ پڑھ رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے بعد بھی دلوں کی تسکین کے سامان پیدا کرے گامیں کہاں تک اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو گنواؤں۔انسان تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو گن نہیں سکتا۔ہم اس کے عاجز بندے ہیں۔وہ تو بڑا ہی پیار کرنے والا ربّ ہے۔کاش! آپ اس کی طاقتوں کو ، کاش! آپ اس کے حسن کو ، کاش! آپ اس کے احسان اور دوسری صفات کو پہچاننے لگیں اور ہماری کوشش سعی مقبول بن جائے۔پس آب اجتماعی دُعا کرتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا ہے آپ ہر وقت دُعا کرتے رہیں ہر وقت استغفار کرتے رہیں اپنی عاجزی کا اظہار کرتے رہیں جو شخص اپنے نفس کے عجز کو پہچان لیتا ہے اس کے دل پر تکبر اور غرور حملہ نہیں کیا کرتا۔اللہ تعالیٰ سب کو سمجھ دے۔اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو ان کے مقصد پیدائش کی معرفت عطا کرے اور ایسے سامان پیدا ہو جائیں کہ وہ اپنے رب کی طرف جھکنے لگیں اور جو عالمگیر تباہی دُنیا کے سر پر اس وقت منڈلا رہی ہے اس کی ہلاکت سے محفوظ رہیں۔اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں اور وہی ہر کام کرنے پر قادر ہے۔آؤ۔مل کر دعا کرلیں۔(جلسہ سالانہ کی دعائیں صفحہ ۴۵ تا ۵۸)