خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 418 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 418

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب اس میں پہلوں پر یہ احسان کیا گیا ہے کہ انہیں کہا گیا کہ اگر چہ ان حالات کے مطابق کامل ور مکمل ہدایت تمہیں نہیں مل سکتی تھی لیکن اس کامل اور مکمل ہدایت میں سے جو کچھ تمہیں مل سکتا تھا وہ تمہیں مل گیا ہے یعنی اپنے وقت کے لحاظ سے جس چیز کی بھی ضرورت تھی اپنے حالات کے مطابق جو ضروری چیز تھی وہ تمہیں دے دی گئی ہے۔یہ نہیں کہ انبیاء جیسا کہ میں نے تفصیل سے بیان کیا ہے خود اپنی طرف سے باتیں بنانے والے ہوں۔دوسرے ان کو یہ بتایا گیا کہ ایک عظیم مقصد کے حصول کے لئے تمہیں مبعوث کیا گیا ہے اور تمہارے ذریعہ تمہاری قوم کو اس مقصد کے حصول کے لئے تیار کیا جارہا ہے اور وہ یہ ہے کہ کامل اور مکمل نبی آنے والا ہے کامل شریعت آنے والی ہے۔تم اپنی قوم کو اس کامل اور مکمل نبی پر ایمان لانے اور اس کامل شریعت کے حامل بننے کے لئے اور اس کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار کرو۔اس لئے جہاں انہوں نے صداقت کا اعلان کیا وہاں یہ بھی اعلان کیا کہ جو کامل ہے وہ آنے والا ہے اگر یہ پس منظر نہ ہو تو دوسرا اعلان ہو ہی نہیں سکتا تھا اگر اس شریعت کے حاصل ہونے کے لئے قوم کو تیار نہیں کیا جارہا تھا تو ان کو یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی کہ کامل اور مکمل نبی آنے والا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو یہ بتایا کہ تمہارے بھائیوں میں سے ایک نبی مبعوث کیا جائے گا جو خدا کا کامل کلام تمہیں سنائے گا اور جو اس کی اتباع نہیں کرے گا وہ خدائے قہار کے مواخذہ کے نیچے ہو گا۔دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کہا تھا کہ دیکھو میں جتنا بھی لے کر آیا ہوں وہ اس لئے لے کر آیا ہوں کہ تم آنے والے کی کامل اتباع کے لئے تیاری کر سکو اور اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ بحیثیت قوم و زمانہ تم اس پر اکتفا نہ کرنا کہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس کی تم اتباع کرو بلکہ تمہارے دماغوں میں یہ بات حاضر رہے کہ صداقت کا ایک حصہ ہمیں ملا ہے اور یہ اس لئے ملا ہے کہ جب پوری صداقت ہمارے سامنے آئے اسے قبول کرنے کے لئے ہم تیار ہوں اور ہماری طبیعتوں میں کوئی انقباض پیدا نہ ہو۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو مخاطب کیا اور ان کو بھی یہ کہا کہ میں صداقت لے کر آیا ہوں لیکن تیار ہو جاؤ ( وہ بڑا قریب زمانہ تھا) وہ عنقریب آنے والا ہے جس کی تمہیں اتباع کرنی پڑے گی اور جسے کہتے ہیں بس ایک آنچ کی کسر رہ گئی ہے تھوڑی سی اور تربیت تمہاری ہوگئی تو تم اس