خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 371
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۷۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔زبان سیکھنا بڑا مشکل ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ تو سب قدرتوں والا ہے ان کے خط آرہے ہیں کہ زبان سیکھنے کی جس کلاس میں وہ داخل ہوئے ہیں امریکن اور دوسری جگہوں کے لوگ بھی اس میں شامل ہیں جتنے بھی امتحان ہوئے ہیں قریباً سب میں وہ اپنی کلاس میں اول آتے ہیں۔اس ادھیڑ عمر میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اس طرح فضل کیا ہے وہ جلدی جلدی زبان سیکھ رہے ہیں لیکن وہاں کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے اور بات یہ ہے کہ ان کا مطالبہ زبان حال سے یہ ہے کہ مذاہب کی مختلف کلبوں میں سے نکال کر ہمیں اللہ تعالیٰ کے سلسلہ میں داخل کرنے کی کوشش کرو۔اس میدان میں ہمیں بڑی جدو جہد کرنا پڑے گی کیونکہ ان کے اندر یہ عادت پڑ گئی ہے کہ ایک ہی شخص کیتھولک کلب کا بھی ممبر ہے اور پروٹسٹنٹ کلب کا بھی ممبر ہے اور بدھ کلب کا بھی ممبر ہے۔کلمہیں ہیں یعنی مختلف مذاہب کے چرچ اور عبارت گاہوں کو وہ کلب سمجھتے ہیں اور وہاں جتنی کلمبیں ہیں وہ ان کے ممبر بن جاتے ہیں۔بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ان کے وہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مذہب کی رسومات پر عمل کرتے ہیں۔جب وہی بڑا ہو کر مرتا ہے تو اسے دفنانے کے لئے دوسرے مذہب کی رسومات پر عمل کرتے ہیں۔ان میں فراخ دلی بہت ہے ہونی بھی چاہے۔کیونکہ جب اللہ سے دوری ہوئی تو دوری کی ایک راہ اور دوری کی دوسری راہ میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکے البتہ قرب کی جو راہ ہے وہ ایک ہی ہے یعنی صراط مستقیم۔وہاں سے جو انسان ہٹاوہ گیا اور ہلاک ہوا یعنی جو صراط مستقیم سے ہٹ جائے وہ پھر ایک راہ کا تو پابند نہیں ہوتا ایسی صورت میں تو لاکھوں را ہیں نکل سکتی ہیں۔لیکن صراط مستقیم ایک ہے۔تو ان کو اس صراط مستقیم پر لانا یعنی کلبوں سے نکال کر مذہب میں داخل کرنا اس کے لئے ہمیں جہاد کرنا پڑے گا۔چونکہ وہ لوگ مذاہب کو کلب سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مذاہب کی ذہنیت اور ان کا فلسفہ اور اس فلسفہ کے متعلق تقاریر ان کے نزدیک ایسی ہیں جیسی کسی کلب میں مختلف تقاریر ہوتی ہیں۔اس فلسفے کو مغلوب کرنے کے لئے اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے کسی اور فلسفہ کی ضرورت نہیں اور نہ وہ ہمیں مفید ہوسکتی ہے۔شاید میں نے پچھلے سال بھی دوستوں کو اس طرف متوجہ کیا تھا کہ وہاں جماعت کو ترقی حاصل کرنے کے نشان آسمانی اور تائیدات سماوی کی ضرورت ہے۔جن پر ایک نظر پڑنے سے اگلا دیکھنے والا انسان اثر قبول کئے بغیر نہ رہ سکے۔