خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 372

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۷۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔ابھی مجھے چند ہفتے ہوئے سپین کے مبلغ کا خط آیا۔وہاں ہمارے مبلغ کی یہ حالت ہے کہ جماعت کی طرف سے اسے کوئی گزارہ نہیں ملتا اس کے ساتھ معاہدہ ہی یہی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے انتہائی قربانی کرنے والے کچھ نوجوان نکالے تھے اور ان سے کہا تھا کہ ہم تمہیں ایک دھیلا نہیں دیں گے۔جاؤ کماؤ اور تبلیغ کرو۔وہ اس قسم کے مبلغین میں سے ہیں یہ شخص دن کے وقت ایک کام بازار کی نکڑ پر کھڑا ہو کر چھا بڑی میں عطر بیچتا ہے۔ایک دنیا دار کی نگاہ میں ایک چھابڑی فروش سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہونی چاہئے۔جس طرح اور لاکھوں کروڑوں چھابڑی فروش دنیا کی گلیوں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں اس طرح ظاہری طور پر یہ بھی ہیں لیکن اس کے چہرے پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ اس قسم کا عزت واحترام کا غلاف چڑھایا ہے کہ جنرل فرانکو کے ساتھیوں میں سے ایک شخص ان کو ملنے کے لئے آیا اور اس نے اپنی پارٹی ( وہاں جنرل فرانکو کی ایک ہی پارٹی ہے وہ ڈکٹیٹر ہے ) کے بلیٹن میں ایک مضمون لکھا اور اس نے بڑی اچھی باتیں لکھیں علاوہ اور باتوں کے اس نے ایک بات یہ لکھی کہ اس مادی دنیا میں کہ انسان اپنے منہ تک مادیت کے گند میں پھنسا ہوا ہے لیکن ایک ایسے راہب انسان سے ملنا میرے لئے بڑی عزت افزائی کا موجب ہے۔اب دیکھو جنرل فرانکو کا ایک ساتھی وہ جنرل فرانکو جو حاکم اور کلی طور پر صاحب اقتدار ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ چھابڑی فروش ، لاکھوں کروڑوں چھا بڑی فروشوں، میں سے ایک نہیں ہے جو تمہیں دنیا کی گلیوں ہی میں پھرتے نظر آتے ہیں بلکہ یہ چھابڑی فروش اللہ کا ایک چھابڑی فروش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چھابڑی فروش مسیح موعود کا ایک چھابڑی فروش ہے۔کوئی اور چھابڑی فروش اگر اس کے گھر میں جاتا تو اس کا چپڑاسی اسے ٹھڈے مار کر باہر نکال دیتا۔لیکن خدا کا یہ چھا بڑی فروش جب اس سے ملا تو اس نے اسے اپنے سر آنکھوں پر بٹھایا۔اس قسم کے متقی پرہیز گار بے نفس دعاؤں میں مشغول رہنے والے۔دنیا کو واقعی ایک مردہ تصور کرنے والے اور مادی قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جانے والے۔خدا کا نام بلند کرنے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے ہمیں جاپان میں اس قسم کے مبلغ چاہئیں۔دراصل تو ایسے ہی ہر جگہ چاہئیں لیکن بعض جگہ ہم یہ خصوصیات نمایاں طور پر محسوس کرتے ہیں کہ یہ خصوصیات مبلغین میں ضرور ہونی چاہیئے۔