خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 362 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 362

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔-------- اللہ کی قدرتوں کو دیکھنے کے بعد ساری دنیا اور دنیا میں رہنے والے سب ہمارے لئے ایک مردہ کی طرح ہیں ان کے سامنے ہم جا کر اپنی گردنوں کو فخر کے ساتھ کیسے اونچا کریں گے۔مردوں کے سامنے بھی کوئی فخر کیا کرتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کی قدرت نے ہمیں اس طرح گرفت میں لے لیا ہے کہ دنیا کی ہر دوسری چیز ایک مردہ کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے تو ان کے سامنے تو فخر کی ضرورت نہیں اور وہ جو زندہ دل اور زندہ روح رکھنے والے احمدی اور مسلمان ہیں ان کے سامنے اس لئے نہیں کہ ان کو بھی پتہ ہے کہ ہم لاشئے محض ہیں اور ہمیں بھی پتہ ہے کہ ہم لاشئے محض ہیں۔نہ اس نیستی کا احساس ان سے چھپا ہوا ہے اور نہ ہم سے چھپا ہوا ہے۔پس ان کے سامنے ہم کس طرح فخر سے بات بیان کر سکتے ہیں کر ہی نہیں سکتے۔پس فخر کے لئے نہیں نہ غیروں کے سامنے فخر یعنی ان غیروں کے سامنے جو خدا سے دور اور خدا سے جنہوں نے زندگی نہیں پائی ان کو تو ہم مردہ تصور کرتے ہیں نہ اپنوں کے سامنے فخر کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا بھائی بھی اس طرح اس حقیقت پر قائم ہے جس طرح کہ میں ایک لاشی محض ہوں اور نیستی کا لبادہ پہنے ہوئے خدا کے حضور جھکا ہوا ہوں۔کوئی فخر کی بات نہیں لیکن تحدیث نعمت کے طور پر اس نیت کے ساتھ اس امید پر بیان کرتے ہیں کہ جب ہم دنیا کے سامنے یہ اعلان کریں گے کہ باوجود ہرقسم کی کم مائیگی کے محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم نے یہ کیا نہ ذرائع ہمارے اپنے ، نہ اسباب ہمارے پیدا کردہ نہ طاقتیں اپنے زور سے ہم لینے والے نہ ان کی نشو ونما کو اس کے کمال تک پہنچانے میں ہمارے اپنے نفسوں کا اپنا حصہ۔ہر درجہ پر ہر طرح پر ہر پر قدم پر اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کچھ ہو نہیں سکتا تھا اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی۔ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَ رَبِّ غَفُورٌ تم ایک پاک ماحول کو جو میری توفیق سے پاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔وَرَبِّ غَفُورٌ وہ بشری خامیاں رہ جائے گی ان سے گھبراؤ نہیں۔و سنجزی الشاکرین اس طرح جو ہمارا شکر ادا کرنے والے ہوں گے۔ہم انہیں جزا دیں گے۔جو تو فیق انہیں نیکیوں کی پہلے ملی ہے اس سے زیادہ تو فیق نیکیوں کی انہیں بعد میں دی جائے گی اس واسطے مومن کا ہر قدم پہلے قدم سے آگے پڑتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر قدم پر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والا ہوتا ہے۔قوتیں اور طاقتیں اور ستعداد میں پہلے دی گئی ہیں ان سے بڑھ کر قو تیں اور