خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 357
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۵۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ ء۔دوسرے روز کا خطار قربانیاں دلوائیں ان کا ذکر ہے۔میرے نزدیک بہت سے پہلوتشنہ ہیں لیکن جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بڑا مفید ہے اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ایک ابھی مجھے دی گئی ہے ”احمدیہ پاکٹ بک مکرم محترم قاضی محمد نذیر صاحب ناظر اصلاح وارشاد نے اسے مرتب کیا ہے اور چار مضامین پر یہ مشتمل ہے جن کا ذکر شروع میں نہیں کیا گیا۔نہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کس کس صفحے سے شروع ہوتے ہیں کسی دوست نے بتایا ہے کہ آخری صفحے پر ہیں۔نہیں آخری صفحہ پر فہرست ہے میری مراد یہ ہے کہ ان چار عنوانوں کے متعلق یہ بتایا گیا ہو کہ ان مضامین پر فلاں فلاں صفحے سے بحث شروع ہوتی ہے یہ میری نظر سے نہیں گذرا اگر ہے تو بہر حال جو میرے سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ پہلا مسئلہ جس پر اس میں بحث کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے دوسرے بزرگ انبیاء کی طرح ہی وفات کے بعد اپنے رفقاء کے پاس چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں وہاں بڑے خوش ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کی جو پیشگوئیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں اور بعض دوسری پیشگوئیاں ہیں ان کی حقیقت کیا ہے؟ اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوعظیم مقام اللہ تعالیٰ نے عطا کیا جس کو ہم خاتم النبین ہونے کا مقام کہتے ہیں اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خود حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کے مطابق اور جو پہلے بزرگ گذر چکے ہیں ان کے بیان کے مطابق کیا ہے۔الفضل ہے الفرقان ہے ماہنامہ انصار اللہ ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تین تقریریں بھی شائع ہوئی ہیں۔میں علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ اصل علم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور بیان میں ہے باقی تو کسی حصے کی تفسیر ہے کسی جگہ بعض پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔بہر حال بنیا دو ہیں ہے۔جس طرح قرآن کریم کے باہر کوئی صداقت نہیں یہ پکی بات ہے۔بعض دفعہ یہ جو بعد میں جھگڑے پڑے ہیں۔ہماری جماعت میں ہی غلط خیال پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے اور قرآن کریم کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی اپنے کمال کے لئے ضرورت نہیں یعنی یہ خیال غلط ہے کہ اگر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات