خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 331
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۱ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کی ہے کہ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ یہ ان انا جیل میں سے ہے جو سچی ہیں اور جن کے اندر حقائق پائے جاتے ہیں۔دراصل یہ دوسروں سے بھی زیادہ بچی ہے لیکن ایک وقت میں جب بگاڑ پیدا ہو گیا تو سچی شہادت چھپا لیتے ہیں۔جس طرح انہوں نے اپنی آیتیں غائب کر لیں جس طرح بعض دفعہ مخالف جو ہے ایک دوسرے مذہب کے مخالف جن میں روحانیت نہیں ہوتی بعض حوالے بدل دیتے ہیں ٹائیٹل پیج کے لفظ بدل دیئے اس قسم کی حرکت یہ عام طور پر کرتے رہتے ہیں۔یہ انسان کی غفلت اور جہالت کا ایک مظاہرہ ہے۔یہ ہوتا رہتا ہے تو کوئی ایسا وقت آیا کہ انہوں نے اس برنباس کی انجیل کے خلاف باتیں بنانی شروع کر دیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تحدی سے کہا اور آپ نے کتابوں سے ثبوت دیا ہے۔نمبرا کہ یہ کتاب ہے جو تمہارے پوپ کی لائبریری میں ہمیشہ رہی ہے۔اب اگر یہ اس قسم کی لغو اور لا یعنی کتاب ہوتی تو پوپ کی لائبریری میں کیوں ہوتی۔نمبر ۲۔یہ وہ کتاب ہے جس کے متعلق بڑے بڑے پادریوں نے لکھا کہ ہم نے سنا تھا کہ ایسی کوئی کتاب ہے اتفاقا پوپ کی لائبریری میں اسے دیکھنے کا ہمیں موقع ملا اور جب ہم نے اسے پڑھا تو قرآن کی حقانیت ہم پر واضح ہوگئی اور ہم مسلمان ہو گئے۔خیر آپ نے بڑی لمبی بحث کی ہے میں مختصر کر کے صرف اشارہ کر کے لمبی بحث نہیں کروں گا۔اس انجیل میں اس مضمون کی جو حدیث ہے اس کے متعلق حضرت آدم علیہ السلام کی گواہی ہمیں ملتی ہے کہ: پس جب کہ آدم اپنے پیروں پر کھڑا ہوا ( میں سمجھتا ہوں کہ اس کا محاورہ یہ ہے کہ بلوغت کو پہنچا۔یعنی نبوت انہیں ملی۔یہ نہیں کہ ڈیڑھ سال کا بچہ چلنا شروع ہوا یعنی آدم اپنی نبوت کے قدموں پر کھڑا ہوا یعنی روحانی بلوغت کو پہنچا ) اس نے آسمان میں ایک تحریر سورج کی طرح چمکتی دیکھی جس کی عبارت تھی لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ۔تب آدم نے اپنا منہ کھولا اور کہا میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اے میرے پروردگار اللہ کیونکہ تو نے مہربانی کی پس مجھ کو پیدا کیا لیکن میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو مجھے خبر دے کہ ان کلمات کے کیا معنے ہیں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ۔تب اللہ تعالیٰ نے جواب دیا مرحبا ہے تجھ کو اے میرے بندے آدم اور میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو پہلا انسان ہے جس کو میں نے پیدا کیا ( یعنی جس غرض