خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 23

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۳ ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار سامان کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہاتھی والوں کو چڑیوں نے تباہ کر دیا ایسا ہی یہ پیشگوئی قیامت تک جائے گی۔جب کبھی کوئی اصحاب الفیل پیدا ہو گا تب ہی اللہ تعالیٰ ان کے تباہ کرنے کے لئے ان کی کوششوں کو خاک میں ملا دینے کے سامان کر دیتا ہے۔۔اس وقت اصحاب الفیل کی شکل میں اسلام پر حملہ کیا گیا ہے مسلمانوں کی حالت میں بہت کمزوریاں ہیں اسلام غریب ہے اور اصحاب فیل زور میں ہیں مگر اللہ تعالیٰ وہی نمونہ پھر دکھانا چاہتا ہے چڑیوں سے وہی کام لے گا۔“ ( الحکم ۷ ار جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں ہمیں بتایا ہے کہ جب بھی آنا آنحضر نہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کا سوال پیدا ہو گا۔اللہ تعالیٰ مسلمان کہلانے والوں کی کمزوریوں کو نظر انداز کر دے گا اور اپنے اس مقدس بندے کی عزت اور ناموس کی خاطر اس کے دشمنوں کو تباہ اور برباد کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں 66 ( تذکرہ نیا ایڈیشن صفحه ۴۰۴ ) سو پاکستان وہ قلعہ ہند ہے جس پر بھارت نے حملہ کیا تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اُترے اور مسلمانوں کی تائید میں اترے اس کے نتیجہ میں بھارت کو ذلت آمیز شکست دیکھنی پڑی۔جس کی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی۔بھارت اور پاکستان کا فوجی لحاظ سے کوئی باہم مقابلہ تھا ہی نہیں۔آج کل جنگی نقطۂ نگاہ سے ہوائی جہازوں کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور بھارت کے ہوائی جہاز ہم سے چھ گنا زیادہ تھے اور پھر وہ ہمارے جہازوں سے اچھے تھے۔تیز رفتار تھے اور ان کے پیچھے بڑی ٹریننگ تھی لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ بِاذْنِ اللهِ (البقرة: ۲۵۰) کہ میں یہ اذن آسمان سے نازل کرتا ہوں کہ یہ تھوڑی تعداد والے جہاز بڑی تعداد والے جہازوں پر غالب آئیں گے اور یہ ایک حقیقت ہے ایک واقعہ ہے جسے ہم نے دیکھا اور خود مشاہدہ کیا حالانکہ یہ ایک ایسی بات ہے جسے بظاہر انسانی عقل تسلیم نہیں کرتی لیکن جو واقعہ ہمارے