خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 316
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۶ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب اور ہمارے علماء میں سے بعض نے لکھا ہے کہ یہ بیان میں عمدہ اور مضبوط یعنی ان کے بیان اور حدیث کے روایت کرنے میں کسی قسم کا ضعف نہیں ہوتا تھا اور ان سے آگے جو سلسلہ روایت ہے ہر شخص کے متعلق جب میں نے تحقیق کی تو ہر شخص کو ثقہ پایا۔یہاں تک کہ یہ روایت احمد بن جنبل یا دوسری کتب احادیث کے لکھنے والوں کے پاس پہنچی۔تو ایک سلسلہ راویوں کا چلانا کہ انہوں نے کہا کہ مجھ سے فلاں نے بیان کیا اور اس نے کہا کہ مجھ سے فلاں نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے فلاں نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے فلاں نے یہ بیان کیا اور سب سے آخر میں کہا کہ مجھ سے عرباض بن ساریہ نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔تو عرباض بن ساریہ کے متعلق میں نے تفصیل سے بتا دیا ہے۔باقیوں کے متعلق جو بڑی بحث کی ہے وہ تو ایک مستقل علم بن گیا ہے کہ احادیث کی روایت کرنے والوں کی حالت کیا تھی۔اس قسم کے لوگ بعد میں پیدا ہوئے اچھے بھی تھے برے بھی تھے۔منافق بھی تھے مومن بھی تھے بڑے غور اور فکر کرنے والے بھی تھے اور بڑے محتاط بھی تھے اور اس کے مقابلہ میں غیر محتاط لوگ بھی تھے لیکن تنقید کرنے والوں نے ایک ایک آدمی کو لے کے ذرا ذراسی بات سامنے رکھ کے تنقید کی ہے اور ان کتب میں اس سلسلہ میں روایت میں ہر راوی کو مستند اور ثقہ بیان کیا ہے۔تو جہاں تک روایت کا سوال ہے یہ ایک معتبر حدیث ہے۔اب ہم روایت کو لیتے ہیں کہ مضمون کے لحاظ سے آیا اس کو علمائے اسلام نے قبول کیا ہے یا نہیں کیا۔ہوسکتا ہے کہ ایک حدیث کے راویوں پر کوئی شک نہ ہو سارے نیک ہوں مخلص ہوں۔محتاط ہوں لیکن انسان انسان ہے غلطی کر سکتا ہے اسی واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جب کوئی حدیث قرآن کریم سے ٹکرائے تو را وی خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو تم۔رد کر دو۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات بھی کی ہے قرآن کریم کی تفسیر ہی کی ہے۔اس کے خلاف تو بات نہیں کی تو اس کا مضمون بتا رہا ہوگا کہ یہ درست نہیں۔پھر معنوی لحاظ سے اسے قرآن کریم کے مطابق بنانے کی کوئی تدبیر نہ سوجھے تو اسے رد کر دو۔جس طرح آپ نے فرمایا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب نہ ہو لیکن راوی بعض لوگوں کے نزدیک مشتبہ ہوں لیکن جب ہم قرآن کریم کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تو قرآن کریم کی بعض