خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 311 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 311

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۱ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ابھی میں نے پڑھی اس میں جو کہا گیا ہے کہ میں اپنا ایک خلیفہ بنانا چاہتا ہوں اس سے ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اگر چہ عام طور پر اس کا ئنات کو پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ ایک ایسی نوع پیدا ہو کہ جو مظہر صفات باری بن سکے۔لیکن اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسا وجود پیدا ہو جائے کہ جو اللہ کا مظہر اتم ہو یعنی تمام صفات باری کا وہ کامل مظہر ہو۔صرف اللہ کی اس صفت کا وہ مظہر نہ ہو کہ وہ ذوانتقام ہے۔خدا تعالیٰ بدلہ لیتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نمایاں طور پر خدا کی اس صفت کا مظہر بنے اور انتقام لینے پر آپ نے زور دیا ، یا وہ اللہ کی صرف اس بنے کہ وہ غفور ہے معاف کر دیتا ہے۔جیسے حضرت مسیح علیہ السلام صرف اس صفت کا نمایاں طور ہے مظہر بنے اور صفات کا بھی بنے لیکن نمایاں طور پر اس صفت کا مظہر بنے اور یہ کہا کہ اگلا آدمی خواہ بدیوں میں ترقی کرتا چلا جائے تم اس کو معاف کرتے چلے جاؤ اور یہ نہیں بتایا کہ سوچ لیا کرو کہ تمہارے معافی دینے کے ساتھ کہیں وہ اپنی بدیوں میں تو ترقی کر کے اللہ تعالیٰ سے اور بھی بعد تو نہیں حاصل کر لیتا۔تو ان آیات سے خصوصاً اس آیت سے کہ میں اپنا ایک نائب اور خلیفہ بنانا چاہتا ہوں اس بات کا پتہ لگتا ہے کہ کائنات کی پیدائش کا اصل اور حقیقی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا انسان وجود پذیر ہو جو اللہ ( اور اللہ کے معنے ہیں مجمع جمیع صفات کا ملہ حسنہ وہ ذات جو تمام کامل اور اچھی صفات کی جامع ہے) کا مظہر اتم بن جائے یعنی اس کے اندر بھی ظلی طور پر تمام صفات الہیہ جمع ہو جائیں۔تو اس سے ہمیں تین چیزوں کا پتہ لگا ایک یہ کہ مقصد کا تعلق انسان سے ہے دوسرے یہ کہ یہ مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان اس لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ پیدائش عالم کا یہ مقصد حاصل ہو سکے کہ ایک ایسی نوع پیدا ہو جائے جو صفات باری کی مظہر بننے کی قوت اور استعدادا اپنے اندر رکھ سکتی ہو اور ہمیں یہ پتہ لگا کہ اصل اور حقیقی مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا انسان کامل پیدا ہو جو اللہ تعالیٰ کا مظہر اتم ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا مظہر ہو تمام صفات کا جو مظہر ہو گا اصولی طور پر وہ اللہ کا مظہر ہو گا۔وہ ان بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ (البروج : ۱۳) کی صفت کا بھی مظہر ہو گا جب گرفت کرے گا تو اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہو گی اس میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کی صفت کا مظہر ہو گا اور وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ (الاعراف: ۱۵۷) کی ایک صفت باری ہے۔جب وہ رحمت