خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 307 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 307

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۰۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب اور ایک مقررہ وقت کے لئے پیدا کیا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ احقاف میں فرماتا ہے۔مَا خَلَقَ اللهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى (الاحقاف:۴) که الله تعالى - کہ نے ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر اور ان کے درمیان پایا جاتا ہے بلا وجہ اور حکمت کے بغیر پیدا نہیں کیا اور نہ کوئی مدت مقرر کرنے کے بغیر پیدا کیا ہے۔اسی طرح اور بہت سے مقامات پر قرآن کریم نے بڑے زور کے ساتھ اس دعوی کو انسان کے سامنے پیش کیا ہے کہ اس کائنات کی پیدائش ایک خاص مقصد کے حصول کے پیش نظر کی گئی ہے۔یہ چاند ، یہ ستارے، یہ سورج، اب جب ہمارا علم بڑھ گیا ہے تو ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بے شمار سورج ہمارے نظام شمسی کی طرح اس عالمین میں پائے جاتے ہیں۔پھر آسمانوں کے متعلق تو بڑا تھوڑا اعلم ہے۔کم از کم تھوڑا بہت علم ہم نے حاصل کر لیا ہے کہ بعض ستارے زیادہ روشن ہیں اور بعض کم اور بعض ستارے ہم سے قریب ہیں اور بعض بہت دور یعنی یہ محض فلسفیانہ رنگ میں نہیں بلکہ دور بینوں سے ہم نے یہ پتہ لیا اور ہم نے شعاعوں کے متعلق یہ بھی پتہ کر لیا کہ کتنے لائٹ ایرز میں ، یعنی کتنے ایسے سالوں میں کہ جس میں شعاعوں کی ایک سال کی رفتار جو ہے (اسے لائٹ ایرز (Light years) کہتے ہیں ) وہ روشنی یہاں تک پہنچی وغیرہ وغیرہ اور اس سے جو علم حاصل ہوا جس سے ہمیں فائدہ پہنچ رہا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح چاند اور سورج کی روشنی ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے اندر بعض خاص خصوصیتیں پیدا کرتی ہے اسی طرح ستاروں کی روشنی بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج گندم کا دانہ جس میں مثلاً ؟ تعداد تو نہیں یاد کسی کو پتہ بھی نہیں، گنا بھی نہیں جا سکتا ہے، لیکن مثال دے دیتے ہیں ، جس کی پرورش میں ایک ہزارستاروں نے دودھ پلایا۔وہ اس دانہ سے مختلف ہے۔جو آج سے پانچ ہزار سال پہلے پیدا ہوا تھا اور جس کی پرورش میں صرف نو سوستاروں کی روشنی کا حصہ تھا۔عقلاً اس میں اختلاف ہونا چاہئے تھا کیونکہ زیادہ ستاروں کی روشنی پرورش کا باعث بنی تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ یہ جو میں نے ستارے بنائے، پھر زمین بنائی اور پھر میں نے بے شمار چیزیں بنادیں مختلف انواع کے کچھ حیوان ہیں۔کچھ نباتات سے تعلق رکھنے والی ہیں۔کچھ معد نیات سے تعلق رکھنے والی ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر ہر چیز میں میری جس جس صفت کا جلوہ ہوا ہے چونکہ میری ہر صفت اور اس کے جلوے غیر محدود ہیں۔اس چیز کے جو خواص ہیں وہ غیر محدود ہیں۔تو اتنا بڑا کارخانہ اپنی وسعتوں کے لحاظ سے بھی اور اپنی گہرائیوں کے