خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 304
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۰۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب فدائی بہنیں ضرورت سے کہیں زیادہ اس موقع پر آگئیں اور روٹی پکاتی رہیں۔جب تک کہ ان کو یہ نہیں کہا گیا کہ اب اور مزید روٹی نہ پکائیں کیونکہ ہماری ضرورت پوری ہوگئی ہے اور تھوڑے سے وقت میں انہوں نے ساڑھے نو ہزار روٹی تیار کر کے لنگر میں بھجوا دی۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری یہ بہنیں جماعت کے شکریہ کی مستحق ہیں۔میں اپنی طرف سے اور ساری جماعت کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دے اور اللہ تعالیٰ ہمیں بھی انہیں بھی ہمیشہ ہی ہنگامی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے بھی اور جو ہماری مستقل ضروریات ہیں ان کے مطالبات پورا کرنے کے لئے بھی توفیق دیتا چلا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نہایت ہی حسین پیرایہ میں اور جیسا کہ آر تحریر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے اور اس کے الہام کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان پر روشنی ڈالی ہے اور اس سارے مضمون کی وضاحت اصولی طور پر سورۃ نجم کی ان آیات سے کی ہے جن کی تلاوت میں نے کی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ یہ بات جو میں تمہارے سامنے رکھ رہا ہوں یہ حقیقت محمد یہ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔میں اپنے الفاظ میں اور اس بات کے پیش نظر کہ میرے سامنے پڑھے لکھے بھائی بھی موجود ہیں اور بڑے بڑے عالم بزرگ بھی ہیں۔عام علم رکھنے والے بھائی بھی ہیں جن کی غالباً کثرت بھی ہوگی ان میں سے ممکن ہے بہت سے لکھنا پڑھنا نہ جانتے ہوں لیکن احمدیت میں آجانے کے بعد اور احمدی جو جلسے کرواتے ہیں وہ سننے کے بعد ایسے لوگوں کو بھی کوئی عقلمند اور سمجھدار انسان جاہل اور ان پڑھ نہیں کہہ سکتا۔لکھنا پڑھنا بے شک وہ نہیں جانتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں علم اور فراست دیا ہے۔لیکن بہر حال استعدادیں مختلف ہیں میں کوشش کروں گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علمی رنگ میں حقیقت محمدیہ کو جس طور پر بیان کیا ہے اُسے واضح الفاظ میں اور سادہ زبان میں بیان کروں تا کہ ہر احمدی اس حقیقت کو جاننے اور پہچاننے لگے اور یہ ہماری زندگیوں کے لئے بڑا ضروری ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو اصل حقیقت اور جو اصل مقام اور آپ کی جو اصل شان ہے اس سے واقف ہوں اور اس کی معرفت ہمیں حاصل ہو۔تاکہ ہمارے دل میں آپ کی شدید محبت پیدا ہو جائے کیونکہ جس قدر اس محبت میں شدت ہو گی اسی