خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 305 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 305

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۰۵ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب قدر اللہ تعالی کی اس محبت میں شدت ہوگی جو ایسے بندوں سے وہ کرتا ہے جونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں۔اس حقیقت اور اس مضمون کو سمجھنے کے لئے میں پیدائش عالم کے بیان سے مضمون شروع کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ اس عالمین کی پیدائش بلا وجہ اور بغیر مقصد کے نہیں بلکہ وہ خدا جو بغیر وقت کے ہماری مشکلیں ( ہم اپنے لئے کہتے ہیں کہ ایک لمحہ کے اندر ) لیکن اللہ کی ذات تو اس لمحہ سے بھی بالا ہے بہر حال ہم نے چونکہ اپنی زبان استعمال کرنی ہے اور ہم کر ہی نہیں سکتے۔اس لئے ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ علام الغیوب ایک لمحہ کے اندر ہر چیز کا اپنے علم میں احاطہ کرتا اور اپنے منشاء کی اور ارادہ کی تفاصیل کو طے کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اس طرح اس چیز کو بنا دینا ہے پھر حکم دیتا ہے اور وہ چیز ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری اس مادی دنیا میں تدریج کا اصول جاری کیا ہے اس نے مثلاً نظام شمسی کو کہا کہ ہو جاؤ اور وہ ہو گیا لیکن تدریجاً ان کو ان کی آخری شکل تک پہنچایا بعض لوگوں کے نزدیک ایک زمانہ بعض کے نز دیک کوئی دوسرا زمانہ گذرا لکھوکھا سال گزرے جس میں نظام شمسی نے وہ شکل اختیار کی جو شکل کہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا نظام شمسی اختیار کرے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں قرآن کریم کے شروع میں ہی اس بنیادی اصول کی طرف یہ کہہ کر توجہ دلائی تھی کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة :۲) کہ اس عالمین کی ربوبیت ہوئی ہے۔رب کے معنے ہیں پیدا کر کے درجہ بدرجہ مدارج ارتقا طے کروا تا چلا جانے والا یعنی وہ پیدا کرتا ہے اور وہ خود درجہ بدرجہ مختلف مدارج میں سے گزار کے اس کی جو استعداد ہے اس کو اپنے مخصوص دائرہ استعداد کمال تک پہنچاتا ہے۔مثلاً گندم کا بیج ہے ہمارے ہزاروں زمیندار بھائی یہاں بیٹھے ہیں وہ گندم کا پیج اپنے کھیتوں میں ڈال کے جلسہ سننے کے لئے آ جاتے ہیں۔اب یہ بھی نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر گندم کا بیج گندم کی فصل کی شکل اختیار کر کے گندم پیدا کرتا ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں اپنے بعض بندوں کا تیرے ذریعہ سے پیٹ بھرنا چاہتا ہوں اس لئے تو ایک کی بجائے ستریا سویا دوسو یا استعداد کے مطابق سات سو تک یا اس سے بھی بڑھ کر جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے۔بڑھنا ہے لیکن خدا تعالیٰ کا یہ حکم مختلف دوروں میں سے اس بیج کو گزارتا ہے پہلے اس کی