خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 300
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار پکڑلیں گے اور مجھ سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو وہ سب ہی معزز ہو جائیں گے۔ایک روحانی آنکھ رکھنے والا کسی شخص کے مال یا عظمت و جاہ یا اس کے محل اور اس کے باغات کو دیکھ کر یا اس کے سیاسی اثر ورسوخ کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ یہ زیادہ معزز ہے۔اس کی نگاہ تو یہ دیکھ رہی ہوگی کہ یہ بھی اور وہ بھی ایک ربّ واحد و یگانہ سے چمٹے ہوئے ہیں جو عزت کا سرچشمہ اور سب کو معزز کرنے والا ہے اور جو خدا سے دور ہو گیا وہ تو ذلیل ہو گیا۔اب یہ کہنا کہ ان میں سے کون زیادہ معزز اور کون زیادہ ذلیل ہے۔یہ بیوقوفی کی بات ہے۔اسلام میں اور احمدیت میں خدا سے دوری ذلت کا باعث بنتی ہے اور جو خدا کے غضب کے نیچے ہے اس کو یہ بات فائد ہ نہیں پہنچا سکتی کہ وہ یہ کہے کہ خدا کا غضب محمد پر دوسرے کی نسبت کم ہے اگر تم جہنم میں ہو تو چاہے تم جہنم کے کسی حصہ میں بھی ہو۔تم آگ کی سوزش سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور اس بات پر کوئی شخص کیا فخر کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قہر نے اس کو پکڑا اور اسے کچل کے رکھ دیا۔کوئی شخص اس پر فخر نہیں کر سکتا کیونکہ فخر تو وہ کر سکتا ہے جس کے اندر کوئی خوبی ہو۔جس نے اللہ تعالیٰ کے دامن کو پکڑ لیا وہ خدا کی نگاہ میں اور روحانی بینائی رکھنے والے کی آنکھ میں معزز بن گیا۔اس اسلام اور احمدیت میں سب ایک جیسے معزز ہیں وہ جنہوں نے خدا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو پکڑا اور اس کے ہو لئے۔انہوں نے غیر سے منہ موڑا اور شیطان سے قطع تعلق کیا اور خدا سے دوری پر موت کو ترجیح دی وہ سارے معزز بن گئے۔ایک جیسے معزز۔پس اگر تمہیں خدا کے غضب سے محفوظ رہنا ہے تو اخوت کے اس ذریعہ کو قائم رکھو اور کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو اور کسی کو اپنے سے چھوٹا نہ سمجھو۔جہاں تک روحانی آنکھ کا تعلق ہے سب ایک جیسے ہیں سب بھائی بھائی ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کی نگاہ کا تعلق ہے ہمیں یہ علم ہی نہیں ہم یہ دعوای ہی نہیں کر سکتے کہ کون اس کی نگاہ میں زیادہ معزز اور کون کم معزز ہے ایک اصولی بات ہمیں بتائی گئی ہے اور ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں زیادہ معزز وہ ہوتا ہے جو تقویٰ کی زیادہ راہوں کو زیادہ قربانی دے کر اختیار کرتا ہے لیکن کون ہے وہ اس کا علم ہمارے ربّ کو ہے۔ایک ظاہری عزت اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے ان نائبین کی مقرر کر دی ہے جن سے وہ کام لینا چاہتا ہے اور یہ نائبین انبیاء اور مامورین اور پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ان کے خلفاء