خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 301 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 301

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۰۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔بنتے ہیں۔لیکن انبیاء اور مامورین ( خلفاء کو چھوڑو وہ تو بہر حال ان کے نائب ہیں ) نے یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے لئے اپنی زبان سے عزت کا کوئی دعوی نہیں کیا۔اگر چہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ میں نے ساری عزتیں تیرے قدموں پر لا کر رکھ دی ہیں اور آج میری نگاہ میں عزت وہی حاصل کرے گا جو تیرے قدموں پر جھکے گا اور یہاں سے اپنے لئے عزت کو تلاش کرے گا اتنے بڑے مقام کے باوجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے کسی عزت کے مقام کا دعوی نہیں کیا آپ یہی فرماتے رہے کہ فلاں نبی پر مجھے ترجیح نہ دوفلاں پر مجھے ترجیح نہ دو۔آپ نے عاجزی کے مقام کو اختیار کیا تا کہ امت یہ سبق سیکھے کہ عاجز کی راہیں انسان کو عزت کی منازل کی طرف لے جانے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں ان راہوں پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور جماعت میں یہ جذ بہ اور روح قائم رکھے کہ جماعت میں شامل ہونے والا ہر فرد بشر ایک جیسا معزز اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قابل صد عزت و احترام ہے اور جو شخص مرد ہو یا عورت اس وجہ سے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں کو اختیار کیا خدا کی نگاہ میں معزز ہو۔اس شخص کو جو معزز نہیں سمجھتا وہ اپنی ذلت پر مہر لگا تا اور اسلام میں کوئی شخص غریب نہیں کیونکہ ہر اس شخص کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کہ جو بظاہر غریب ہے ظاہری امیر کی دولت میں اس کا حق رکھا گیا ہے اور جو حقیقی طور پر احمدی اور مسلمان ہے اس کے دل میں قناعت کے خزانے لا کر رکھ دیئے گئے ہیں وہ تو دنیا کی چیز کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔اس کے ہاتھ میں تو جب ایک پیار کرنے والا ہاتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کوئی چیز دیتا ہے تو اس کی نگاہیں جھک جاتی ہیں حالانکہ خدائی آواز اس کے کان میں آرہی ہوتی ہے کہ یہ تیرا حق ہے تو اسے لے لے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی بندے بنے کی ہمیشہ تو فیق عطا کرے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ صحت سے رکھے اور کل کی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق دے۔( از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )