خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 299
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۹ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب کرنے والا تو ہوسکتا ہے لیکن خدا کی نگاہ میں وہ امیر نہیں ہوسکتا اور کوئی غریب نہیں اسلام میں اس لئے کہ جو دنیا کی نگاہ میں غریب تھے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایک سے زائد سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیئے۔امیر کہلانے والوں کے اموال میں ان کا حق رکھ دیا امیر کہلانے والوں کے دلوں میں ان کے لئے اخوت اور محبت پیدا کر دی امیر کہلانے والوں کی روحوں میں یہ تڑپ پیدا کر دی کہ ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے بعد بغیر احسان جتلانے کے یہ فقرہ ان کی زبان پر آنا چاہئے کہ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدھر: ١٠) ہم نہ تم سے کسی بدلہ کے طالب ہیں اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارا احسان مانو۔پا شکر یہ ادا کرو دنیا دار اپنا مال دوسروں پر دو میں ایک چیز کے لئے خرچ کرتا ہے یا تو اس نے جزا لینی ہوتی ہے، بدلہ لینا ہوتا ہے مثلاً مزدور دوسرے کے لئے اپنا دن خرچ کرتا ہے اس لئے کہ شام کو اسے مزدوری ملے لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھے کسی جزا کی ضرورت نہیں۔پھر دنیا دار دوسرے پر اس لئے اپنے اموال خرچ کرتا ہے کہ اس نے اس پر احسان کرنا ہوتا ہے لیکن مومن یہ کہتا ہے کہ تمہیں میرا احسان ماننے اور شکر یہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے یہ کام جو چیز حاصل کرنے کے لئے کیا تھا وہ تم مجھے نہیں دے سکتے۔وہ صرف میرا رب مجھے دے سکتا ہے میں نے اپنا مال اور اپنا پیسہ اس لئے خرچ کیا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا حاصل ہو جائے اور تم مجھے میرے رب کی رضا دے ہی نہیں سکتے پھر میں تم سے شکر یہ بدلہ یا احسان کا طالب کیسے بن سکتا ہوں میں احمق تو نہیں ہوں۔غرض اسلام میں نہ تو کوئی امیر ہے خدا کی نگاہ میں اور نہ کوئی غریب ہے خدا کی نگاہ میں۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے طریق اور خدا کی راہ میں اعمال صالحہ بجا لا کر اس کی نعمتوں کے حصول کے طریق بتائے گئے ہیں کہ سب کو ایک مقام پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔اس لئے جماعت احمد یہ اور اسلام میں نہ اضافی طور پر کوئی زیادہ معزز ہے اور نہ اضافی طور پر کوئی زیادہ غریب ہے۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی نگاہ کا تعلق ہے وہی جانتا ہے کہ کون اس کی نگاہ میں معزز ہے اور کون اس کی نگاہ میں ذلیل ہے ہمیں تو اس کا پتہ نہیں اور چونکہ ہمیں اس بات کا پتہ نہیں اس لئے ہم کہہ ہی نہیں سکتے کہ کون ذلیل ہے اور کون معزز ہے اس نقط نگاہ سے جہاں تک دنیا کا سوال ہے خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ عزتوں کا سرچشمہ میرا وجود ہے اور ذلتوں کا منبع مجھ سے دور ہے۔اگر سو آدمی میرے دامن کو آ کر