خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 298
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۸ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔اسی طرح جو غریب ہیں ان کا خیال رکھنا بھی بڑا ضروری ہے میرے ذہن میں تھا کہ میں اس طرف جماعت کو توجہ دلاؤں گا کہ اسلام میں احمدیت میں مالی لحاظ سے کوئی غریب نہیں۔اس لئے میں مختصراً کہہ دیتا ہوں آپ ذرا توجہ سے سنیں کہ احمدیت اور اسلام میں مالی لحاظ سے کوئی غریب نہیں۔اس لئے کہ جس شخص کی جائز ضرورتیں بطور حق کے دینوی اموال میں قائم کی گئی ہیں وہ غریب نہیں کہلائے گا اسے غریب نہیں کہا جاسکتا اور جس کے مادی وسائل اور ذرائع اتنے تھوڑے ہیں کہ اس کی اہم بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں اس کا حق امیر کے روپے میں رکھا گیا ہے۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ ( الداربیت : ۲۰) امیر کی دولت میں یہ حصہ اس کا نہیں اس کو چاہئے کہ جس کا وہ حق ہے اسے وہ پہنچائے اور جود نیوی لحاظ سے کم پا یہ ہے اور غریب سمجھا جاتا ہے اسے میں اختصار کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ قناعت سے بڑی کوئی دولت نہیں اور حرص سے زیادہ کوئی غربت نہیں۔پس اپنے دلوں میں قناعت پیدا کرو اور جو کچھ تمہیں خدا کی طرف سے ملے اس کو تم شکر اور حمد کے ساتھ قبول کرو اور استعمال کرو۔اس طرح یا تو اللہ تعالیٰ آپ کو زیادہ دے گا وہ اس تھوڑے میں تمہارے لئے زیادہ برکت ڈال دے گا۔اگر ایک امیر آدمی دس روپیہ کے کھانے سے اپنے جسم کی ایک ضرورت پوری کر رہا ہو گا۔تو اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کچھ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ آپ اپنے جسم کی اتنی ضرورت ایک لقمہ سے پوری کرلیں گے اور جب آپ کو یہ ایک لقمہ ملتا ر ہے اور جب یہ ایک لقمہ دس روپیہ کے کھانے کا آپ کر ہو میں کام کر رہا ہو تو کھانے کے لحاظ سے آپ اتنے ہی امیر ہو گئے جتنا کہ وہ امیر ہے جو د نیوی طور پر امیر سمجھا جاتا ہے۔اگر ایک امیر کا بچہ بیمار ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے دس ہزار روپیہ خرچ کروا کے اس کے بچہ کو صحت دے اور آپ جو دنیا کی نگاہ میں غریب ہیں آپ کے بچہ کو ویسی ہی بیماری میں اور ان حالات میں ہی ایک دو روپیہ خرچ کروا کے اللہ تعالیٰ صحت دے تو آپ اتنے ہی امیر ہیں جتنا وہ شخص جس نے اپنے بچہ کی بیماری پر دس ہزار روپیہ خرچ کیا۔پس اسلام میں کوئی شخص نہ امیر ہے اور نہ غریب ہے۔امیر اس لئے کوئی نہیں کہ امیر وہ ہے جو خدا کی نگاہ میں امیر ہے اور وہ شخص خدا کی نگاہ میں امیر نہیں جس نے اپنے مال سے وہ حقوق ادا نہیں کئے جو اس مال کے دینے والے نے اس پر فرض کئے تھے۔پھر وہ خدا کی نگاہ میں امیر کیسے ہوا وہ خدا کی نگاہ میں چور۔خائن اور غبن