خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 293 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 293

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۳ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب ----- ایک بالکل ذیلی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سال کی نسبت وقف جدید کا ہر جہت۔زیادہ کام ہوا ہے ( اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا ) اور جو واقفین وقف جدید ہیں ان کی تعداد بھی پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہے۔لیکن جب کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ابھی اتنی تعداد نہیں ہوئی جتنی کی ہمیں ضرورت ہے یا جتنی تعداد کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خواہش کی تھی۔یعنی یہ کہ ہر گاؤں میں ایک واقف وقف جدید بٹھا دیا جائے جو عام تربیت کرے۔گو علمی لحاظ سے ان کا معیار بلند نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایک حد تک وہ روز مرہ کی ضرروتوں کو پورا کر رہے ہیں۔یعنی ان کی روحانی دوکان سے نمک تیل اور آٹامل جاتا ہے پلاؤ زردہ پکانا ہو تو اور جگہ سے سودا لے لو دوسرے مربی بھی تو ہیں۔بہر حال واقفین وقف جدید روحانی لحاظ سے جماعت کی روزمرہ کی ضرورتوں کو پورا کر دیتے ہیں اور وہ ہر جگہ ہونے چاہئیں ورنہ جہاں وہ نہیں وہاں روز مرہ کی ضرورتیں پوری نہیں ہور ہیں الا ماشاء اللہ۔بعض جگہ گاؤں کے رہنے والوں میں سے ایک سے زائد واقف وقف جدید سے بھی زیادہ علم اور تجربہ رکھنے والے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے لیکن بہت سے ایسے دیہات ہیں جہاں اس وقت اس قسم کے احمدی موجود نہیں اور نہ ہمارا واقف وقف جدید موجود ہے اور اس وجہ سے جماعت ان فضلوں سے محروم رہ رہی ہے جو فضل ان کے بھائیوں پر دوسرے مقامات میں نازل ہو رہے ہیں۔وقف عارضی پچھلے سال جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا اور آپ سے یہ امید رکھی تھی کہ آپ سات ہزار واقفین وقف عارضی میدان تربیت میں لاکھڑا کریں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے سال گذشتہ میں ان کی تعداد چھ ہزار سے کچھ اوپر ہو گئی تھی۔گو وہ سات ہزار نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ چھ ہزار بھی بڑی تعداد ہے جنہوں نے اپنے وقت میں سے کم از کم دو ہفتے نکالنے ہیں پھر سفر کی کوفت برداشت کرنی ہے۔پھر اپنا خرچ کرنا ہے جہاں انہیں بھیجا جانا ہے وہاں انہوں نے اپنا کیمپ نبالینا ہے اور وہیں اپنا کھانا پکانا ہے اور اپنی دوسری ضروریات پورا کرنے کا انتظام کرنا ہے۔یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے مستقل سپاہی ہیں وہ دوسروں کی عارضی امداد کے محتاج نہیں