خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 275

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۵ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب میں داخل ہوا تھا اس نے تبلیغ کر کے ان کے ان دونوں عربوں کی بھی بیعت کروائی اور اب وہ اپنے علاقہ میں ایک مبلغ بنا ہوا ہے۔یہ نہیں کہ وہاں احمدی دوست امن میں ہیں۔وہ بڑی تکلیفیں اٹھارہے ہیں اور الہبی جماعتوں کو تکلیفیں پہنچتی ہی رہتی ہیں کہ جو عید کا مزہ ہے وہ دوبالا ہو جائے۔جس شخص کو عید کا کھانا ہی روز ملے اس کو عید کے دن والے کھانے میں کیا لذت آئے گی۔غرض جب اللہ تعالیٰ دنیا کو تکلیف پہنچاتا ہے تب مزہ آتا ہے جب دنیا کا ہر انسان گندی زبان کے تیز دھار والے آلہ سے مجھ پر حملہ آور ہو اور اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ مجھ سے پیار اور محبت کا سلوک کرے تب مجھے اللہ تعالیٰ کے اس پیار اور محبت والے سلوک میں مزہ آئے گا۔تیسری خوشی کی بات جو اللہ تعالیٰ نے اس تسلسل اور ضمن میں ہمارے لئے پیدا کی اور عید کی مسرت ہمیں پہنچائی یہ ہے کہ نہ صرف عرب ممالک میں بلکہ ان سب ممالک میں جہاں عرب بستے ہیں اور وہاں ہمارے مبلغین ہیں عربوں کی توجہ جماعت کی طرف پیدا ہوئی۔ان ممالک میں بہت سارے عرب اپنے کاموں کے سلسلہ میں آئے ہوئے ہیں اور بعض اپنی ایمبیسیز (Ambassies) یعنی سفارت خانوں کے سلسلہ میں آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے ایک سال کے اندر اندر ہمارے کاموں میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا آسمان سے تار ہلایا گیا ہے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ ساری ایمبیسیز یا سارے عرب لوگ ہی جماعت کے کاموں سے بے اعتنائی برتتے ہیں لیکن بہر حال بعض ایمبیسیز (Ambassies) ایسی تھیں کہ جو ہماری مسجد سے کوئی تعلق رکھنا برداشت ہی نہیں کر سکتی تھیں۔وہ اپنے کارکنوں کو وہاں جانے سے روکتی تھیں لیکن اچانک انہوں نے ہمارے کاموں میں دلچسپی لینی شروع کر دی۔ایک دن ایک ایمبیسی (Ambasey) نے افطاری کے موقع پر ایک احمدی دوست کو بھی بلا لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ مسجد کب بنی۔تم کیسی تبلیغ کر رہے ہو( یہ ڈنمارک کی بات ہے۔پھر انہوں نے اس مسلمان انجینئر کو بلایا جن کے متعلق میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ انہوں نے بڑے شوق سے مسجد بنائی ہے اور اس سے جماعت کے حالات پوچھے پھر ایک ایمبیسی کے سفیر ہمارے امام کو ملنے کے لئے آئے۔انہوں نے ہمارے کام کی بڑی تعریف کی اور کافی رقم اشاعت اسلام کے لئے وہاں دے گئے اور یہ کہا کہ یہ میری حکومت کی طرف سے ہے اس وقت میں مصلحت ان ملکوں یا ان سفیروں کا نام نہیں بتاؤں گا۔