خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 271

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۱ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجالاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بیشمار روحیں اس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں۔وہ وقت تم نے پالیا۔اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھا نا تمہارے ہاتھ میں ہے۔( جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاماً بتایا گیا تھا کہ عید تو ہے چاہے کر دیا نہ کرو وہی مضمون آپ نے یہاں بھی بیان کیا ہے ) ” میں اس کو بار بار بیان کر وں گا اور اس کے اظہار سے میں رک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تادین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لئے ساری ذلتیں قبول نہ کر لیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟۔ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔“ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحہ ۷، ۱۱،۱۰،۸) یعنی یہی موت ہے جس پر ہماری عید موقوف ہے جب انسان اپنے خدا کے لئے اپنی جان کو پیش کر دیتا ہے۔جب انسان اپنے خدا کے حضور اپنے آرام کو پیش کر دیتا ہے۔جب انسان اپنے خدا کے حضور ایسے جذبات کو پیش کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میری ہر چیز تیرے ہی لئے ہے اور تیری ہی راہ میں فدا ہے تب وہ خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کے سلوک کو پاتا ہے اس کا نام عید ہے اور حقیقتاً یہی عید ہے۔جو کھانا پینا ہے وہ تو کوئی عید نہیں اس کے نتیجہ میں پیٹ خراب ہوتے ہیں بیماریاں آ جاتی ہیں۔ڈکار آنے لگ جاتے ہیں اور ہم کہتے ہیں بڑی خوشی ہوئی۔عید بڑی منائی بہت کھایا نتائج کیا نکلے اس کھانے اور پینے کے) لیکن جب اللہ تعالیٰ کا جلوہ ہم پر ظاہر ہوتا ہے اور ہمارے دلوں میں ایک روحانی سرور پیدا ہوتا ہے۔تو وہ ایک ایسا سرور ہے کہ جس کا تصور بھی دنیا