خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 270

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار کر کھائیں پئیں۔ہنسی اور خوشی سے کچھ وقت گزاریں اپنی توجہ اور اپنی ہر چیز قربان کر رہی ہوتی ہے۔پس عید میں خوشی زیادہ ہے اور تکلیف کم ہے عید کے ساتھ تکلیف بہر حال لازم لگی ہوئی ہے۔پھر جب دنیا کی عیدوں کے ساتھ تکلیف لگی ہوئی ہے تو وہ عید جس کی مسرتوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔جس کی قیمت دنیا کے اموال ادا نہیں کر سکتے۔اس عید کے ساتھ بھی تکالیف لگی ہوئی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ ہر تکلیف کے موقع پر معجزانہ طور پر مسرت کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔اس طرح پر وہ دن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلان کے ساتھ شروع ہوا کہ جنہوں نے آج میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی ہے وہ خوش ہو جائیں کہ ایک ابدی عید کی بشارت اللہ تعالیٰ انہیں دے رہا ہے۔عید کا دن ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے کام سکھائے گئے ہیں۔ایسی عبادتیں بتائی گئی ہیں کہ جب مسلمان انہیں بجالائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کے سامان پیدا ہو کر ان کے لئے عید کی خوشیاں آجائیں گی۔کچھ عرصہ سے امت مسلمہ نے اس عید سے لا پرواہی برتنی شروع کی اور ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ اپنے گناہوں کی وجہ سے اور اپنی کمزوریوں اور غفلتوں کے نتیجہ میں امت مسلمہ تنزل کے ایک دور سے گزری اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید اب عید کا دن ان پر غروب ہو چکا ہے لیکن ان دنوں میں بھی گو کمزور حصہ بادلوں کے اندھیرے میں تھا مخلصین کی ایک بڑی جماعت خدا تعالیٰ کے حسن اور اس کے احسان کے جلوے دیکھ رہی تھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عید کی خوشیوں میں شریک تھی۔لیکن سارے جہان کو اس عید کی خوشی میں شریک کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے اور آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا کہ آپ اس لئے آئے ہیں کہ تا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے یہ فرمائیں۔ساقیا آمدن عید مبارک بادت کہ اے ازلی ابدی ساقی تو خوش ہو کہ تیری اس عید کا دن جو دنیا کی آنکھ میں مشتبہ ہوگئی تھی طلوع ہو رہا ہے۔اب دیکھو عید آ گئی نا۔پھر جماعت احمدیہ کو اور مسلمانوں کی اس جماعت کو جو اس آخری جد و جہد اور اس آخری مہم میں شریک ہونا چاہتی تھی جس جد و جہد اور کوشش کے نتیجہ میں اسلام سب دنیا پر غالب آئے گا مخاطب کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلو والسلام فرماتے ہیں۔