خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 236
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٢٣٦ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کہ جو شخص نفس کی شہوات اور ان لذتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔شہوات کو قطع کرتا اور اپنے سے ان میلانوں کو دور کرتا ہے جو نفس امارہ کی آواز ہوتے ہیں اور ان سب برائیوں اور بدیوں سے نجات حاصل کر کے اپنی عقل ( اپنی نہیہ ) کے نتیجہ میں اپنے رب کے مقام اور اس کی صفات کے جو جلوے ہیں ان سے وہ لرزتا ہے اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنے رب کو ناراض کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت ملتی ہے۔سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا عِنْدَكُمُ يَنْفَدُ يَنْفَدُ وَ مَا عِندَ اللهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمُ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل : ۹۷) اور دوسری آیت میں ساتھ ہی فرمایا مَنْ عَمِلَ صَالِحًا (النحل : ۹۸) پھر اس کے آخر میں فرمایا لَنَجْزِيَنَ الَّذِينَ : صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ تو دوسری آیت۔ان میں سے دوسری آیت میں عمل صالح کے نتیجہ میں احسن عمل کے مطابق جنت کے مقام کا انحصار رکھا کہ جنت میں ہر شخص کو وہ مقام عطا ہو گا جو اُن بہترین اعمال کے نتیجہ میں جو اس نے کئے ہیں ملنا چاہئے یعنی اوسط نہیں لگائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ کا یہ بھی بڑا احسان ہے کہ ہم کوئی عمل ایسا کرتے ہیں جو تھوڑا اچھا ہے کوئی ایسا کرتے ہیں جو اچھا ہے کوئی ایسا کرتے ہیں جو بہت اچھا ہے اور کوئی عمل ایسا کرتے ہیں جو خدا کی نگاہ میں سب سے اچھا ہوتا ہے مثلاً فرض کرو ایک شخص ہے اس نے صرف چار عمل کئے ہیں اور اس کے بعد وہ فوت ہو جاتا ہے۔اب اللہ تعالیٰ حساب لینے لگا۔حساب تو وہ لے گا بغیر وقت کے ہی قرآن کریم کہتا ہے لیکن ہم تو اپنی زبان اور اپنی دنیا کے حالات کے مطابق ہی بات کر سکتے ہیں ورنہ ہم سمجھ نہیں سکتے اسے۔اللہ تعالیٰ حساب لیتا ہے تو وہ شخص جو خدا پر ایمان لایا لیکن اعمال صالحہ میں سے صرف چار عمل کر سکا تو اس دنیا سے وہ واپس بلا لیا گیا ان کاموں میں سے ایک کے نمبر ملے کچھ اچھا، دوسرے کے نمبر ملے، اچھا، تیسرے کے نمبر ملے، بہت اچھا، چوتھے کے نمبر ملے ، سب سے اچھا، تو اللہ تعالیٰ جنت میں اُسے اس جگہ رکھے گا جو سب سے اچھے عمل کے نتیجہ میں وہاں اُسے رکھا جانا چاہئے اور جو نسبتاً خامیاں اور نقص ہیں باقی اعمال میں ان کو اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپے گا تو اللہ تعالیٰ نے ان دو آیتوں میں سے دوسری آیت میں اعمال صالحہ کا ذکر کیا ہے یعنی وہ کرنے والے کام جو اچھی طرح کئے جاتے ہیں اور پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ مَا عِنْدَكُمُ