خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 235
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۳۵ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔اس دن انصار اس طرح دوڑتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جارہے تھے جس طرح اونٹنیاں اور گائیں اپنے بچوں کی آواز سن کر ان کی طرف دوڑ پڑتی ہیں اور تھوڑی دیر میں صحابہ ( خصوصاً انصار ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور دشمن کو شکست ہوگئی۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۲۲۲،۲۲۱) تو اتباع کا یہ مفہوم صحابہ نے سمجھا تھا۔اتباع کا یہ مفہوم ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر نفس کو اونٹوں کی طرح قربان کرنا پڑے یا رشتہ داروں کو اونٹوں کی طرح قربان کرنا پڑا یا بیوی بچوں کو قربان کرنا پڑا۔اس دنیا کے اموال اور اس کے آرام اور لذتوں اور مسرتوں کو قربان کرنا پڑا تو ہم نے خدا تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ہر چیز پر چھری پھیر دینی ہے اور خدا کی آواز جدھر بھی اور جس طرف بھی ہمیں پکارے ہم نے اس کی اتباع کرتے ہوئے اس طرف چلے جانا ہے۔اس رنگ میں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنی ہے۔یہ نہیں کرنا کہ دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سے ہیں اور عمل یہ ہو کہ معمولی معمولی رسموں اور بدعتوں کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں اور حالت یہ ہو کہ مغربی تہذیب کے گندے اور بداثرات سے نجات پانے میں بھی تکلیف محسوس کریں۔یہ نہیں ہوگا۔تیسری صفت جو ہم میں پیدا ہونی چاہئے وہ تہیہ کی ہے یعنی ایسی سختی ہمارے اندر ہونی چاہئے کہ جس چیز سے ہمیں روکا جائے ہم فورا رک جائیں نہ سوچیں نہ دلائل کا انتظار کریں۔بس کان میں حکم آئے یعنی جب بھی خدا اور اس کے رسول کے نام پر بری باتوں سے روکا جائے۔ہمارے اندر یہ قوت اور استعداد اور صفت اور یہ خلق چاہئے کہ ہم فوراً باز آجائیں اس کے بغیر ہم خانہ کعبہ کی تعمیر کے جو مقاصد ہیں وہ حاصل نہیں کر سکتے اور دنیا ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا الله (الحشر : ۸) جس چیز سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں روکیں رک جاؤ کہ تقویٰ اسی میں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى ( النزعت : ۴۱)