خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 227
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۷ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت ( محبت ذاتی اپنے رب کے لئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کا تعلق۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ، اس عقل حج کا پیدا کرنا اور اس عقل کو منور ، روشن اور پختہ کرنا جس کو عربی زبان میں نہیہ کہتے ہیں۔یعنی وہ عقل جو برائیوں سے روکتی ہے اور پانچوشیں یہ خلق اور یہ صفت ہمارے اندر ہونی چاہئے کہ ہم اپنی تدبیر کو اس کے کمال تک پہنچائیں گے۔اس سے ڈرے ڈرے کسی احمدی کو تسلی نہیں ہونی چاہئے یعنی ادھورے کام ایک احمدی کو زیب نہیں دیتے۔یہ ایک خلق ہے ایک اصولی صفت ہے بعض لوگ بے پرواہی سے آدھا کام کرتے ہیں پھر غیر ذمہ داری سے چھوڑ دیتے ہیں توجہ نہیں کرتے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پیچھے پڑے رہتے ہیں اور جب تک وہ کام مکمل نہ ہو جائے اس طرف سے توجہ نہیں ہٹاتے اسے اسلامی زبان میں جہاد یا مجاہدہ کہتے ہیں۔چھٹے روح مسابقت یعنی یہ روح ہمارے اندر ہونی چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے والا ہو اور ساتویں سفرہ ہونے کی صفت۔یعنی یہ جذبہ جنون تک پہنچا ہوا ہو کہ ہم نے نامساعد حالات میں بھی اور تھوڑے ہونے کے باوجود ساری دنیا میں پھیل جانا ہے اور قرآن کریم کے علوم کی اشاعت کرنا ہے اور آٹھوئیں جذبہ خدمت جو رضا کارانہ کی جاتی ہے یعنی ایسی خدمت جس کے مقابلہ میں نہ بدلہ لیا جاتا ہے اور نہ بدلہ کی خواہش کی جاتی ہے اور نوشیں تو گل۔اللہ تعالی کی محبت ذاتی محبت کا تعلق کسی چیز سے دو طرح پیدا ہوتا ہے ایک اس کے حسن کی وجہ سے اور ایک اس کے احسان کی وجہ سے۔احسان کی وجہ سے جو تعلق پیدا ہوتا ہے وہ آگے دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ تعلق محبت جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس ہستی سے مجھے اتنا انعام مل چکا ہے کہ اگر اور انعام نہ بھی ملے تب بھی میں اس سے پیار کرتا چلا جاؤں گا اور ایک تعلق محبت احسان کے نتیجہ میں اس قسم کا ہوتا ہے کہ آدمی سمجھتا ہے کہ مجھے اس سے تعلق رکھنا چاہئے۔کیونکہ اس سے فیض حاصل کروں گا اور اگر کسی وقت اس کو یہ خیال پیدا ہو جائے کہ فیض بند ہو گیا تو اس تعلق کو وہ قطع کرتا ہے۔حسن اور احسان کے نتیجہ میں احسان کے جو پہلے معنے میں نے بتائے ہیں کہ اتنا --