خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 220 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 220

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۰ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب منع کرنے کے باوجود بنایا۔اس تہ خانہ کی جو چھت تھی وہ سکہ کی بنائی تاکہ اس پر کوئی اثر نہ ہو اور ان کو یقین تھا کہ اگر کر مکس سے پہلے نہیں تو کرسمس کے دن ضرور دنیا تباہ ہو جائے گی اور ڈنمارک میں وہی لوگ بچیں گے جو اس تہہ خانے میں آ کر جمع ہو جائیں گے۔جب میرے پاس ان کا خط آیا تو ۱۹ را کتوبر کو میں نے انہیں جو خط لکھا اس کا ترجمہ میں آپ کو سنا دیتا ہوں جو یہ ہے۔آپ کے خط محررہ ۳۰ ستمبر کا شکریہ۔مسٹر رچرڈ گریو آف بلیک پول کا دعوی بے معنی ہے البتہ دلچسپ ضرور ہے اور ان یورپیوں کے لئے جو روحانی تاریکی میں بھٹک رہے ہیں آنکھیں کھولنے کا موجب ہوگا۔ان کا دعوی ہے کہ دنیا تین مہینے کے اندر اندر جو ہری جنگ کے ذریعہ تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی اس سے ہمیں اتنا موقع تو ضرور ملا ہے کہ ہم اہل یورپ تک بالخصوص اور ساری دنیا تک بالعموم اسلام کے پیغام اور ان اسلامی پیش گوئیوں کو جو موجودہ زمانہ سے متعلق ہیں پہنچانے کی کوشش کریں اور انہیں بتائیں کہ یہ پیشگوئیاں من وعن پوری ہو کر رہیں گی۔یہ تین مہینے کی میعاد ( جو کرسمس کے دن ختم ہوئی تھی جو مسٹر رچرڈ گریو نے مقرر کی ہے ) ۲۵ / دسمبر کو ختم ہو جائے گی۔آپ ہر ممکن ذریعہ سے تمام لوگوں تک یہ بات پہنچادیں کہ مسٹر گر یو اور اس کے ساتھی انتظار ہی کرتے رہیں گے اور ان کی پیش گوئی جیسا کہ ان کا دعوی ہے کبھی بھی پوری نہیں ہوگی۔یہ میچ ہے کہ آج دنیا کے مختلف مقامات میں جنگ کا امکانی خطرہ ضرور موجود ہے عین ممکن ہے کہ مقامی اور محمد و قسم کے انقلابات یا حادثات رونما ہوں لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں ہو گا کہ دنیا ان تین مہینوں میں جوہری جنگ کے ذریعہ سے تباہ و برباد ہو جائے۔جو بنیادی طور پر امن اور آشتی کا زمانہ ہے۔دراصل مسٹر گر یو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہیں جو اس نے نہیں کہی۔یہ دعویٰ بیہودہ اور بے معنی ہے۔“ اس کے بعد میں نے انہیں لکھا کہ اب میری تقریر لنڈن والی ) پیغام امن کا ترجمہ ہو چکا ہے ضروری ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔دنیا کی نجات اور بقاء کا کلی دار ومدار اس پیغام میں مضمر ہے۔مسٹر گر یو کا دعویٰ کبھی پورا نہیں ہوگا۔یہ باطل ہے اور اپنی میعاد تک باطل ہی رہے گا۔ان کے جھوٹے اور خود ساختہ معبود ان کی ہرگز مدد کو نہیں آئیں گے نہ ہی یو نیورسل لنک انہیں بچا سکے گا۔ان کے لئے اب ایک ہی امید اور جائے پناہ رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے خدا کے آستانہ پر آکر سر بسجو د ہو جائیں۔یہ خدا ایسا خدا ہے کہ جس کے حسن ، عظمت اور قدرت کا اعلان تمام