خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 195
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۵ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔جو پچاس روپے ماہوار لیتا ہے۔باقی سارا کام رضا کا ر کرتے ہیں۔جو سائر کا خرچ ہے وہ بھی رضا کارانہ طور پر حاصل ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ توفیق دے دیتا ہے وہ یہ خرچ ادا کر دیتا ہے تین چار ہزار روپیہ سالانہ کا خرچ ہے اور یہ خرچ رضا کارانہ طور پر چل رہا ہے صدر انجمن احمدیہ کے عام اخراجات میں یہ خرچ شامل نہیں اور عام آمد پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔گواگر اسے بوجھ کہا جاسکتا ہے تو جماعت پر یہ بوجھ ضرور پڑتا ہے بہر حال سارا کام رضا کارانہ طور پر چل رہا ہے۔نظارت بیت المال پر اس کے ایک پیسہ کا بھی بوجھ نہیں۔اس کے بعد میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جماعت نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی محبت کی وجہ سے اور آپ کے احسانوں کی یاد میں ایک فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تھی اور بڑی ہمت کے ساتھ اور بڑی فراخ دلی سے اس میں وعدے لکھوائے تھے۔۲۶ دسمبر ۱۹۶۷ء تک پاکستان کے وعدے ستائیس لاکھ ستاسٹھ ہزار ایک سو ستر روپے کے تھے اور غیر ممالک یعنی بیرون پاکستان کے وعدے آٹھ لاکھ اٹھاسی ہزار ایک سو تراسی (۸۸۸۱۸۳) روپے کے تھے ان کی میزان چھتیس لاکھ پچپن ہزار تین سو ساٹھ (۳۶۵۵۳۶۰) بنتی ہے۔۲۶ دسمبر ۱۹۶۷ء تک گیارہ لاکھ چوالیس ہزار نو سو پچاسی (۱۱۴۴۹۸۵) کی وصولی تھی اور غیر ممالک کی وصولی تین لاکھ پچاس ہزار آٹھ سو دس (۳۵۰۸۱۰) تھی۔کل وصولی چودہ لاکھ پچانوے ہزار سات سو پچانوے (۱۴۹۵۷۹۵) کی تھی بیرون پاکستان کی جماعتوں کی جو مالی قربانیاں ہمارے سامنے آئی ہیں ان کی شکل یہ بنتی ہے۔یورپ میں بسنے والے احمدیوں کے وعدے دو لاکھ چھیانوے ہزار چار سو اکتیس (۲۹۶۴۳۱) روپے کے تھے اور اس کے مقابلہ میں وصولی ایک لاکھ نوے ہزار آٹھ سو اٹھاون (۱۹۰۸۵۸) روپے کی تھی۔یعنی قریباً دو تہائی وصولی ہو چکی ہے۔امریکہ کے وعدے اٹھاسی ہزار تین سو اٹھائیس (۸۸۳۲۸) روپے کے تھے اور وصولی انتیس ہزار ایک سو تہتر (۲۹۱۷۳) روپے ہے۔افریقہ کی جماعتوں کے متعلق میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ان کے چندے دینے کا طریق اور ہے جب وہ چندے دیتے ہیں تو کہتے ہیں ساری خدمتوں میں تم خود ہی تقسیم کر لو تعلیم میں بھی