خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 190
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۰ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب معلوم ہوئی ہے خدا کرے کہ آپ بھی یہ ثابت کریں کہ واقعی یہ تعداد تھوڑی ہے یہ تو چند ہفتوں میں اپنے ہاتھوں میں اور اپنوں کے ہاتھوں میں پہنچ جانی چاہئے۔کچھ میرے خطبات بھی نظارت اصلاح وارشاد نے شائع کئے ہیں ۱۔تین اہم امور ۲۔قرآنی انوار ۳۰ تعمیر بیت اللہ کے تمھیں عظیم الشان مقاصد۔دو تعمیر بیت اللہ کے تئیس عظیم الشان مقاصد یہ دس خطبات ہیں ایک دن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پتہ نہیں ایک سیکنڈ کے کتنے حصہ میں دماغ میں ایسی لہر پیدا کی کہ یہ سارا مضمون دماغ میں آ گیا۔جوں جوں خطبات دیتا گیا آہستہ آہستہ مضمون میرے سامنے آتا چلا گیا۔دراصل اس مضمون اس منصوبہ کے ساتھ ہے جس کے متعلق میں کچھ بیان کروں گا شاید کل کی تقریر بھی اسی سلسلہ میں ہو جو ایک درمیانی کڑی کے طور پر ہوگی۔اس مجموعہ کا بار بار پڑھنا ضروری ہے کیونکہ جیسا کہ اس مضمون سے عیاں ہے اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی تعمیر بہت سے مقاصد کے لئے کروائی تھی جن میں سے تئیس کا ذکر ان آیات میں ہے جن پر میں نے یہ خطبات دیئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ان مقاصد کا حصول ممکن ہوا اور تین سو سال تک یہ اغراض پوری ہوتی رہیں پھر تنزل کا ایک زمانہ آیا اور اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر پھر سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرے گا اور وہ تمام مقاصد اسلام کے ذریعہ نوع انسان کو حاصل ہوں گے جن مقاصد کے لئے بیت اللہ کی تعمیر از سر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ کرائی گئی تھی۔میرا ایک چھوٹا سا مضمون ہے جو میں نے انگلستان میں سفر کے دوران پڑھا تھا وہ ”امن کا پیغام" کے نام سے شائع ہوا ہے اس وقت تک یہ مضمون ڈینش زبان میں جرمن زبان میں اور اردو زبان میں اور سواحیلی زبان میں شائع ہو چکا ہے اور سویڈش اور ٹرکش زبانوں میں ترجمے تقریباً مکمل ہو چکے ہیں اور عنقریب شائع ہو جائیں گے افریقہ سے بھی امریکہ سے بھی اور دوسرے ممالک سے بھی۔جہاں یہ مضمون پہنچا ہے دوستوں کی طرف سے یہ رپورٹ آئی ہے کہ جس نے بھی اس کو پڑھا ہے اس نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اس کو آپ کثرت سے شائع کریں اس ضمن میں ایک عظیم نشان اللہ تعالیٰ نے ڈنمارک میں دکھایا ہے جس کے متعلق دوستوں کے سامنے بعد میں تفاصیل رکھوں گا۔اس طرح نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے قرآن مجید پارہ اول کا لفظی ترجمہ اور چالیس