خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 184

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۸۴ ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب دعاؤں کو سنا اور تمہاری حقیر کوششوں کو قبول کیا اور اپنے قرب اور اپنی رضا کی جنتوں کے دروازے تمہارے لئے کھول دیئے ہیں۔پس آؤ اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔رب العلمین نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند کو اس زمانہ کا حصن حصین بنایا ہے۔چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے آج اسی کی جان محفوظ ہے جو اس قلعہ میں پناہ لیتا ہے۔اللہ کرے کہ تم بدی کو چھوڑ کر نیکی کی راہ اختیار کر کے اور کچھی کو چھوڑ کے راستی پر قدم مارکر اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو کر اپنے رب عظیم کے بندہ مطیع بن کر اس حصن حصین اس مضبوط روحانی قلعہ کی چاردیواری میں پناہ اور امان پاؤ۔خدا کرے کہ تمہارے نفس کی دوزخ گلی طور پر ٹھنڈی ہو جائے اور اس لعنتی زندگی سے تم بچائے جاؤ جس کا تمام ہم و غم محض دُنیا کے لئے ہوتا ہے۔تم اور تمہاری نسلیں شرک اور دہریت کے زہریلے اثر سے ہمیشہ محفوظ رہیں۔خدائے واحد یگانہ کی رُوح تم میں سکونت کرے اور اس کی رضا کی خاص تجلی تم پر جلوہ گر ہو۔پرانی انسانیت پر ایک موت وارد ہو کر ایک نئی اور پاک زیست تمہیں عطا ہو اور لیلتہ القدر کا حسین جلوہ اسی عالم میں بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان تمہارے لئے پیدا کر دے۔اے ہمارے رب ! تو ہمیں مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے انصار میں سے بنا اور اس قیامت خیز ہلاکت اور عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ جس سے تو نے اُن لوگوں کو ڈرایا ہے جو اپنا تعلق تجھ سے تو ڑچکے ہیں۔پس اپنی طرف تبتل اور انقطاع اور رجوع کی تو فیق ہمیں بخش اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔اے ہمارے رب ! اے ہمارے رحمان خدا! ہمارے ان بھائیوں کو جو قرآنِ عظیم کی اشاعت کے لئے دُنیا کے ملک ملک اور کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اپنی رحمت سے نواز ، ان کے ایثار اور ان کے تقویٰ میں برکت ڈال، ان کی قلموں کو تا شیر دے، ان کی زبانوں پر انوار نازل کر اور ان کی سعی اور کوشش کو دجال کے ہر دجل اور دہریت کے ہر شر سے محفوظ رکھ۔اور اے ہمارے اللہ ! ہمارے پیارے رب تو ایسا کر کہ تیرے یہ کمزور اور بے مایہ بندے تیرے لئے بنی نوع کے دل جیت لیں اور تیرے قدموں میں انہیں لا ڈالیں۔ایسا کر کہ تا ابد دُنیا کے ہر گھر