خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 181 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 181

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۸۱ ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب میری یہ دعا ہے کہ اللہ کرے کہ تم پاک دل اور مطہر نفس بن جاؤ افتتاحی تقریب جلسه سالانه فرموده ا ار جنوری ۱۹۶۸ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اے میرے عزیزو! میرے پیارو اور حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور بے شمار رحمتیں تم پر ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری ہی دعائیں تمہارے حق میں قبول ہوں ، خصوصاً اس جلسہ میں شامل ہونے والوں یا شمولیت کی نیت رکھنے والوں کے حق میں حضور علیہ السلام کی یہ دعائیں کہ ”ہر یک صاحب جو اس لہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اوران کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہتم و غم دور فرما دے اور ان کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روز آخرت میں اپنے اُن بندوں کے ساتھ اُن کو اٹھاوے جن پر اس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفران کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔اے خدا اے ذوالمجد والعطاء اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر ایک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۲۸۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ دعا ئیں فرمائی ہیں جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لئے یا پھر آپ کے لئے دوسرے مقامات پر بہت سی دعائیں کی ہیں اُن کا وارث بننے کے لئے ہم پہ بھی بہت سی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں خصوصاً جلسہ کے ان ایام میں۔