خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 169
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۶۹ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب ہمارے مسلمان بھائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کو بھی دعوتِ فیصلہ دی ہے مثلاً آپ فرماتے ہیں۔اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھو کہ دیتے ہیں مگر یادر ہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے۔جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسی جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف وعاپس آئیں گے گر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور تو بہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو گا۔جس طرح چاہیں تسلی کر لیں۔“ کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۳ صفحه ۲۲۵ ح ، ۲۲۶ ح) اب دیکھیں یہ ایک دعوت فیصلہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت صلح اور امن کی فضا میں اپنے زمانہ کے مسلمانوں کو دی ہے اور اس کی موجودگی میں ان تمام کفر کے فتووں کی ضرورت نہیں تھی۔جو آپ پر لگائے گئے۔اس تمام شور وشر کی ضرورت نہیں تھی۔جو کیا گیا فتنہ وفساد کی ضرورت نہیں تھی۔جو اٹھایا گیا۔بلکہ ایک بڑا آسان کام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام علماء کو جو ظاہری اور کتابی علوم میں واقعہ میں دسترس رکھتے تھے۔اپنے وقت میں کہا تھا کہ تم کوئی حدیث تلاش کر کے لے آؤ۔جس میں یہ