خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 168

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) -- ۱۶۸ ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب اور یہاں آکے وہ مجمع میں سنائیں بھی۔اگر کوئی آریہ صاحب تمام ویدوں کے اصولوں اور اعتقادوں کو جو اس کتاب میں رد کئے گئے ہیں۔سچ سمجھتا ہے اور اب بھی وید اور اس کے اصولوں کو ایشور گرت سمجھتا ہے تو اس کو اس ایشور کی ہی قسم ہے کہ وہ اس کتاب کا رد لکھ کر دکھا دے اور پانچ سورو پیا انعام پاوے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ کتاب لکھی تھی تو تحریرفرمایا تھا کہ یہ کتاب۔۔۔۔۔اس دعوئی اور یقین سے لکھی گئی ہے کہ کوئی آریہ اس کتاب کا رڈ نہیں کر سکتا کیونکہ سچ کے مقابل پر جھوٹ کی کچھ پیش نہیں جاتی اور اگر کوئی آریہ صاحب ان تمام وید کے اصولوں اور اعتقادوں کو جو اس کتاب میں رد کئے گئے ہیں۔سچ سمجھتا ہے اور اب بھی وید اور اس کے ایسے اصولوں کو ایشر کرت ہی خیال کرتا ہے تو اس کو اسی ایشر کی قسم ہے کہ اس کتاب کار دیکھ کر دکھلاوے اور پانسور و پیر انعام پاوے یہ پانسور و پیہ بعد تصدیق کسی ثالث کے جو کوئی پادری یا بر ہمو صاحب ہوں گے دیا جائے گا۔“ (اشتہارانعامی پانسور و پیه مشموله کتاب سرمه چشمه آریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۳۲۱) یہ دعوت فیصلہ اب بھی قائم ہے اگر آریوں میں سے کوئی ان اصول اور ان شرائط کے مطابق جو اس میں بیان کی گئی ہیں۔یہ فیصلہ کرنے پر راضی ہو کہ قرآن کریم صداقتوں کا مجموعہ ہے یا دید تو ہم ہر وقت اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں اور یہ انعام دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔۲۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب ”چشمہ معرفت میں لکھتے ہیں۔”خدا کی ہستی اور توحید کے دلائل جو قرآن شریف میں لکھے ہیں۔جو مخالف فرقے اس کے قائل ہیں۔یہ سب آریہ صاحبان وید میں سے نکال کر ہم کو دکھلا دیں تو ہم ہزار روپے نقد ان کو دینے کو تیار ہیں۔افسوس ! کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے کہ وید کی طرف وہ کمال منسوب کیا جاتا ہے۔جواس میں پایا نہیں جاتا۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد نمبر ۲۳ صفحه نمبر ۱۴۴۱۴۳) ہم بھی ہزار روپے نقد ایسے صاحب کو دینے کو تیار ہیں جو وید میں سے خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی ہستی کے وہ دلائل نکال کر دکھا دے جو ہم قرآن کریم سے نکال کر اُسے دکھائیں۔