خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 133
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ------- ۱۳۳ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار تحریک جدید کی زمینیں ہیں صدر انجمن احمدیہ کی زمینیں ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے زمینیں خریدی تھیں وہ ہیں۔بعض اور دوستوں نے زمینیں شروع میں خرید میں یا اور بعد میں خرید رہے ہیں ان کی زمینیں۔اوروں کا تو مجھے علم نہیں لیکن اپنی زمینوں اور تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کی زمینوں پر شروع میں قریباً سارے ہی احمدی مزارع تھے لیکن اب بعض جگہ دس پندرہ فیصدی سے زیادہ نہیں اور بعض جگہ مجبوراً ہندوؤں کو بطور مزارع کے وہاں رکھا جا رہا ہے ویسے تو ٹھیک ہے ہم رکھتے ہیں ان کے رکھنے میں کوئی برائی نہیں لیکن ہم نے پہلی توجہ اس طرف دینی ہے کہ ہمارے اپنے دوست اس اقتصادی میدان میں اور زرعی میدان میں ترقی کریں یہ جو کمی اس نسبت میں ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع میں جو دوست وہاں گئے اُنہوں نے خوب کمایا اور اپنی زمینیں خرید لیں۔ہم بڑے خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کی توفیق عطا کی کہ وہ اپنی زمین خریدیں لیکن جب وہ ہماری زمینوں سے گئے اور اپنی زمینوں کو اُنہوں نے آباد کیا تو ان کی جگہ احمدی خاندان نہیں آتے اور اس سے اب ہمیں تکلیف محسوس ہو رہی ہے خصوصاً اس وجہ سے کہ گجرات اور سیالکوٹ اور بعض دوسرے اضلاع میں زمینداروں کی ملکیتیں اتنی تھوڑی ہیں کہ جب وہ بچوں میں تقسیم ہوتی ہیں تو کسی ایک بچہ کے گزارے کے لئے بھی وہ زمین کافی نہیں ہوتی اور ایسے دوستوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ ہم کیا کریں ایسے دوست اگر مثلاً چار بھائی ہوں تو ان میں سے ایک بھائی یہاں کی زمین سنبھالے باقی بھائیوں کے لئے مشتر کہ کام کرے اور باقی ہماری انجمن یا تحریک جدید کی زمینوں پر چلے جائیں تو پانچ سات آٹھ سال میں وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ جتنی زمین وہ یہاں چھوڑ گئے ہیں اس سے زیادہ زیادہ زمینیں وہ اپنے ایک ایک حصہ کی وہ وہاں خرید لیں اتنی آمد اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہوتی ہے تو ویسے دوست وکالت زراعت میں یا نظارت زراعت میں نام پیش کریں۔اور امراء اپنی جماعتوں میں جا کر یہ تحریک بھی کریں دوست بڑی کثرت سے مجھے لکھتے رہتے ہیں گزارا نہیں ہورہا ہمارے باپ کی مثلاً دس ایکٹر زمین تھی اور ہم چار بھائی ہیں ہمیں اڑھائی ایکٹر زمین ملی ہے اُس اڑھائی ایکٹر میں تو تمہارا گزارا نہیں ہوتا لیکن وہ ہیں ایکٹر جو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے وہاں رکھے ہوئے ہیں ان سے تم کیوں فائدہ نہیں اٹھا ر ہے جس کے نتیجہ میں خدا تمہیں پھر پانچ سال بعد یا دس سال بعد یا آٹھ سال بعد یا چھ سال