خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 97 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 97

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۹۷ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار ہے اور میرے جیسے انسان کے لئے جو عینک لگاتا ہے بلب کی روشنی میں اس کا پڑھنا نسبتاً زیادہ آسان ہے۔ویسے تو اس کے پہلے بھی کچھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں لیکن اب جبکہ اس کی اشاعت کا دوبارہ انتظام ہوا تو پہلا ایڈیشن دو ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا اور وہ ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔بلکہ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے رقمیں جمع کروادی تھیں لیکن ان کو تفسیر صغیر کی کاپی اب تک نہیں مل سکی۔اس کے بعد یہ سپر کیلنڈر کا غذ پر تین ہزار کی تعداد میں شائع کی گئی۔اس ایڈیشن کی بھی تھوڑی سی کا پیاں باقی رہ گئی ہیں۔باقی سب بک چکی ہیں اور مجھے خیال پیدا ہوا کہ ابھی مانگ کافی ہے اس لئے قبل اس کے کہ یہ کاپیاں بھی ختم ہو جائیں اسے دوبارہ شائع کر دینا چاہیئے۔چنانچہ اب پھر تفسیر صغیر دو ہزار کی تعداد میں آرٹ پیپر پر شائع ہو چکی ہے اور یہاں وہ پہنچ چکی ہے۔باوجود اس کے کہ کاغذ اعلیٰ ہے جو ایک دوکاندار کے ذریعہ باہر سے درآمد کیا گیا ہے لیکن اس کی قیمت وہی ہے جو پہلے تھی۔جو دوست لینا چاہیں وہ اسے جلد سے جلد خرید لیں تا بعد میں انہیں مایوسی کا سامنا نہ اٹھانا پڑے۔تاریخ احمدیت کی جلدے ادارة ) رۃ المصنفین کی طرف سے شائع کی گئی ہے جن دوستوں کے پاس پہلی چھ جلد میں موجود ہیں۔انہیں یہ جلد ضرور لینی چاہیئے اور جن کے پاس پہلی چھ جلدیں نہیں ہیں انہیں اس جلد کے ساتھ پہلی چھ جلدیں بھی خرید لینی چاہئیں۔اپنی تاریخ کو اپنے گھروں میں محفوظ رکھوتا ہماری اگلی نسل اپنے مستقبل کو فدائیت اور قربانی اور ایثار کے ساتھ بھرتی رہے۔ماضی کی تاریخ اس وقت تک مزہ دیتی ہے اور اسی وقت تک فائدہ پہنچاتی ہے جب اس کے مقابلہ میں مستقبل کی جھولیاں بھی ایثار اور قربانی کے ساتھ بھر دی جائیں ورنہ وہ ایسا ماضی ہوگا جس پر اگلی نسلیں صحیح معنی میں فخر نہیں کر سکتیں۔یہ بنیاد بنتی ہے اوپر کی منزل کی اور اوپر کی منزل آپ بنا نہیں سکتے جب تک نچلی منزل نہ ہو اور جس کو اپنی نچلی منزل یا منزلوں کا علم ہی نہ ہو وہ اس سے اوپر کی منزل بنانے کی طرف کس طرح متوجہ ہوگا۔اداراۃ المصنفین کی طرف سے بخاری شریف مع ترجمه و شرح جو مکرم و محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی لکھی ہوئی ہے انہوں نے ترجمہ کیا ہے اور اس کی تشریح کی ہے اس کا آٹھواں حصہ بھی شائع ہوا ہے۔پہلے سات حصے گزشتہ کسی وقت شائع ہوئے تھے۔اب یہ آٹھواں