خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 93
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۹۳ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار --- کسی کے سامنے پیش کرتا ہے اور کہتا ہے دیکھو یہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ تم اس کے نیچے دستخط کر دو کہ میں اس پر ایمان لاتا ہوں آپ مذہب کو کھیل مت بنائیں ورنہ خدا تعالیٰ کا قہر تم پر نازل ہوگا۔باقی رہی یہ بات کہ اگر بعض عقائد آپ کی سمجھ سے باہر اور آپ کی دسترس سے پرے ہیں تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی فراست عطا کرے کہ آپ حقائق کو سمجھنے لگیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ گالی کے مقابلہ میں نہ ہم گالی دیتے ہیں اور نہ دے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے رب کا یہی حکم ہے کہ گالی کے مقابلہ میں گالی نہ دو لیکن جو شخص یا جولوگ گالی دینے کے عادی ہوں وہ گالی سننے کے بھی عادی ہوتے ہیں اگر انہیں گالی کے مقابلہ میں گالی نہ دی جائے تو ان کی طبیعت بڑی مکد راور بدمزہ ہو جاتی ہے اور کہتے ہیں ” کوئی لطف نہ آیا گالی دین دا اگلا چپ ہی کر گیا‘ پس اس لحاظ سے میں معذرت چاہتا ہوں۔میں آپ کی دلچسپی کے سامان مہیا نہیں کر سکتا کیونکہ میرے اندر خدا تعالیٰ نے گالی دینے کا مادہ نہیں رکھا۔میں آپ سے قرآن کریم کی زبان میں بات کر سکتا ہوں اور کرنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ آپ کو سمجھ عطا کرے کہ آپ اس نکتہ کو پالیس اور اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغُلِبُونَ (الانبياء: ۴۵) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصول دو شکلوں میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور اول یہ کہ جس قوم اور سلسلہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہو کہ وہ اُسے درجہ بدرجہ ترقی کی منازل طے کراتا چلا جائے وہ اس کی طرف سے ہوتا ہے۔تدریجی ترقی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ گروہ یا وہ سلسلہ جو اپنے آپ کو الہی سلسلہ کہتا ہے واقع میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس کے مقابلہ میں تدریجی تنزل اس بات کی دلیل ہے کہ جس گروہ یا سلسلہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہو گیا کہ اس کو تدریجی تنزل کی طرف لیتے چلے جاؤ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔وہ غلطی پر قائم ہے۔اس اصول کے مدنظر جب ہم اپنے ماضی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ایک دن آپ نے قادیان کی مبارک بستی کو جہاں وہ مقامات تھے جن کو خدا تعالیٰ نے شعائر اللہ کہا ہے