خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 83

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) -- ۸۳ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب اختتام کے موقع پر جب آپ اپنے رب کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے لئے جھکیں تو انہیں بھی اپنی ان دعاؤں میں یا درکھیں۔پھر ہماری چھوٹی پھوپھی حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحب کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔الفضل میں بھی دعا کے لئے چھپتا رہا۔کچھ افاقہ بھی ہوا ہے لیکن تین روز سے انہیں اس قسم کی پھر زیادہ شکایت ہوگئی ہے بازوؤں میں شدید درد ہے۔خون کے ٹیسٹ سے انفیکشن معلوم ہوتا ہے۔پس دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت سے رکھے اور ان کی اور ان کی بڑی ہمشیرہ حضرت نواب سیدہ مبارکہ صاحبہ کی عمر میں برکت ڈالے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کو پنج تن کہا تھا۔ان میں سے اب صرف یہی دو بہنیں رہ گئی ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ حضرت نواب سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کس درد اور کس فراست کے ساتھ جماعت کے نام پیغام ارسال کرتی رہتی ہیں۔ان دونوں بہنوں سے بھی بہت سی برکتیں وابستہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر خاص فضل فرمائے اور انہیں اپنی امان میں رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ سالانہ کے مقاصد میں ایک یہ بات بھی رکھی تھی کہ اس موقع پر ان سب احمدی دوستوں کے لئے دعائے مغفرت کی جائے جو سال کے دوران فوت ہو گئے ہیں۔حضور کے اس ارشاد کے یہ معنی نہیں کہ ایک اکٹھی نماز جنازہ یہاں پڑھی جائے۔کم سے کم میں تو اس کے یہ معنے نہیں لیتا۔کیونکہ حضور کے الفاظ میں نماز جنازہ کا ذکر نہیں۔دعائے مغفرت کا ذکر ہے اور نماز جنازہ میں تو جیسا کہ دوست جانتے ہیں ایک دفعہ دعائے مسنون پڑھ لیتے ہیں۔یہی دستور ہے جو ابتدائے اسلام سے چلا آ رہا ہے یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ایک بڑی مختصر سی دعا ہے جو ہم نماز جنازہ میں کرتے ہیں لیکن وہ مخلص نے اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری ہے اور سالِ رواں میں (جس کا اب اختتام ہے ) وہ فوت ہو گئے ان کو اپنی خاص دعاؤں میں یا درکھنا ہمارا فرض ہے پس تمام احمدی بھائی اور احمدی بہنیں جو یہاں ہیں یا جن تک میری آواز پہنچے۔وہ اپنی دعا میں ان مخلصین کو یاد رکھیں۔جو گزشتہ جلسہ سالانہ اور اس جلسہ سالانہ کے درمیانی عرصہ میں قضائے الہی سے فوت ہو چکے ہیں۔پھر اپنی دعاؤں میں پاکستان کو ضرور یاد رکھیں ( کوئی مانے یا نہ مانے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ