خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 81
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ΔΙ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب دعا کے متعلق میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ بڑی ضروری چیز ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جمعہ کے روز ایک ایسی گھڑی آتی ہے جب اللہ تعالیٰ انسان کی دعا قبول کر لیتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گھڑی نہیں بتائی ہاں یہ بتایا ہے کہ وہ پہلی اذان سے لے کر سلام پھیر نے تک کے وقفہ میں آتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی اذان سے لے کر سلام پھیر نے تک دعاؤں میں لگے رہو۔تا یہ گھڑی جو دعا کی قبولیت کی ہے تم سے ضائع نہ ہو جائے۔ہمارا جلسہ سالانہ کا اجتماع بھی بڑا مبارک ہے۔دیکھو اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کتنی دعائیں کی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی کتنی بشارتیں ہیں جو عملی رنگ میں پوری ہو رہی ہیں۔یہ جلسہ جس کے میدان ان کے آخر تک جاتے ہوئے نظر تھک جاتی ہے۔اس کی ابتدا یوں ہوئی تھی کہ پہلے جلسہ میں صرف ۷۵ آدمی تھے اور اس وقت صرف اسٹیج پر جو دوست بیٹھے ہیں۔ان کی تعداد بھی ۷۵ سے زیادہ ہے تو دیکھو خدا تعالیٰ کے کتنے افضال اس جماعت پر نازل ہوئے ہیں اور کل ہی میں نے بتایا تھا کہ ابھی یہ جلسہ گاہ بھی ضرورت کو پورا نہیں کر رہی بعض دوستوں کو جلسہ گاہ کے باہر بھی ٹھہر نا پڑا باوجود اس کے ہر سال جلسہ گاہ کو وسیع کیا جاتا ہے۔جگہ کی تنگی پھر بھی محسوس ہوتی ہے ابھی بعض خاندانوں کو ایسی مجبوریاں پیش آ گئی تھیں کہ وہ باوجود خواہش کے جلسے پر نہیں آسکے۔غرض اللہ تعالیٰ نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد کو ۷۵ سے بڑھا کر اتنا کر دیا کہ باوجود اس کے ہر سال جلسہ گاہ کو وسیع کیا جاتا ہے لیکن وہ بھی تنگ محسوس ہوتی ہے اور پھر ایک زمانہ تھا کہ اگر کسی دوست نے ایک آنہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دیا تو آپ نے اس کا نام اپنی کتب میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا اور اب یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ایسے دوست بھی موجود ہیں۔اگر وہ ہیں ہزار روپیہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیں تب بھی ہمارا دل کہتا ہے کہ انہوں نے ابھی اپنی طاقت کے مطابق مالی قربانی نہیں کی اور میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل اتنا بڑا ہے کہ اگر ہماری آئندہ نسلیں بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہیں تو ہم اس کا کماحقہ شکر ادا نہیں کر سکتے۔باہر کی جماعتوں نے اس موقع پر دعا کے لئے تاریں کی ہیں آپ دیکھیں کہ ہم ان لوگوں کی شکل سے واقف نہیں نہ ان کی عادات کے واقف ہیں۔پھر وہ کون سا رشتہ ہے جو ان کے اور