خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 67
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب کہ میں حیران تھا اور سامان کے لحاظ سے بالکل قاصر پس میں اس کے حضور ہی جھکا اور دعائیں کیں اور میرے پاس تھا ہی کیا ؟ میں نے بار بار عرض کی کہ میرے پاس نہ علم ہے، نہ دولت، نہ کوئی جماعت ہے، نہ کچھ اور ہے جس سے میں خدمت کر سکوں مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ اس نے میری دعاؤں کو سنا اور آپ ہی سامان کر دیئے اور تمہیں کھڑا کر دیا کہ میرے ساتھ ہو جاؤ۔پس آپ وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمرہ ہے جو اس نے مجھے دکھایا اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھاوے گا اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعہ ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گذرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے وہ میرا ہی کام ہوگا“ میں یہ چاہتا ہوں کہ ہم میں ایسے لوگ ہوں جو ہر ایک زبان کے سیکھنے والے اور پھر جاننے والے ہوں تاکہ ہم ہر یک زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کر سکیں اس کے متعلق میرے بڑے بڑے ارادے اور تجاویز ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھتا ہوں کہ خدا نے زندگی دی اور توفیق دی اور پھر اپنے فضل سے اسباب عطا کئے اور ان اسباب سے کام لینے کی توفیق ملی۔تو اپنے وقت پر ظاہر ہو جاویں گے غرض میں تمام زبانوں اور تمام قوموں میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے کہ یہ میرا کام ہے کہ تبلیغ کروں۔میں جانتا ہوں کہ یہ بڑا ارادہ ہے اور بہت کچھ چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہی کے حضور سے سب کچھ آوے گا۔میرا خدا قادر ہے جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔وہی مجھے اس سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق اور طاقت دے گا کیونکہ ساری طاقتوں کا مالک تو وہ آپ ہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس مقصد کے لئے بہت روپیہ کی ضرورت ہے بہت آدمیوں کی ضرورت ہے مگر اس کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے؟۔۔۔۔پس میرے دوستو! روپیہ کے معاملے میں گھبرانے اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں وہ آپ سامان کرے گا۔آپ ان سعادت مند روحوں کو میرے پاس لائے گا۔جو ان کاموں میں