خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 696
اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے وعدوں کو پورا سورج میں ذاتی طور پر نہ گرمی ہے اور نہ روشنی ۲۶۴ ہے یہ تو خدا تعالیٰ کی روشنی کا ایک انعکاس ہے کرنے والا اور کون ہے تم عاجزی اور تضرع کے ساتھ اس کے حضور جو سورج کے ذریعہ ہمیں مل رہا ہے ۲۶۵ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنے دلوں کو ہر سجدہ زیر ہو جاؤ اللہ تعالیٰ ہر تکلیف کے موقع پر معجزانہ طور پر غیر کی محبت سے خالی کر دو مسرت کے سامان پیدا کر دیتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے دامن کو پکڑ لیا وہ ۲۷۰ متصرف بالا رادہ خالق اپنی منشاء سے پیدا کرنے والی ذات ہے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اور روحانی بینائی رکھنے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمتوں کو موسلا دھار والے کی آنکھ میں معزز بن گیا جوخدا سے دور ہو گیا وہ ذلیل ہو گیا بارش کی طرح نازل کرتا ہے اور اپنی رحمتوں ۳۰۰ سے انہیں نوازتا ہے رب کے معنی ہیں پیدا کر کے درجہ بدرجہ خدا تعالیٰ نے ہمیں تسلی دی ہے کہ جتنی ۳۰۵ وسعت ہے اس کے مطابق زیادہ پر میں مدارج ارتقا طے کرواتا چلا جانے والا اللہ تعالیٰ کی ہر صفت اور اس کے جلوے غیر محدود ہیں ۳۰۷ گرفت نہیں کروں گا قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ہر اس صفت کا بیان مسکراہٹ کا اصل منبع اور سر چشمہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہے جس کا تعلق ہماری ذات سے ہے ۳۲۷ پیار ہے اللہ تعالیٰ ناشکری کو نا پسند کرتا اور ناشکروں کو اللہ تعالیٰ ہر شخص کی قوت اور استعدادوں کو اپنی درگاہ سے دھتکار دیتا ہے اے ہمارے رب! تیری عظمت اور کبریائی نے ہمارے درخت وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ بغیر مقصود کے لغو طور پر کوئی فعل نہیں کرتا کیونکہ وہ فنقص سے پاک ہے اللہ تعالیٰ میں تمام صفات حسنہ جمع ہیں اور ۳۵۹ ۳۶۱ ۳۹۳ ۴۳۳ اس کے کمال تک پہنچانا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم کھیتیاں پیدا کرتے ہو؟ تم نہیں پیدا کرتے میں پیدا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کی پیش کش مقبول کرے تو تب اللہ تعالیٰ کی رضامل سکتی ہے ۴۳۴ ۴۳۷ ۴۴۳ ۴۵۱ ۴۵۳ ۴۹۳ ۴۹۵ ۴۹۶ ۵۰۸ کوئی عیب اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ خود ہی کام کرنے والے آدمی بھی دے گا میں نے مٹی کے بت گھڑ کر تو افریقہ نہیں بھیجنے ۵۱۱ اللہ تعالی ہی ہر خیر اور خوبی اور بھلائی کا سرچشمہ ہے ۴۳۳ اللہ تعالیٰ کی ہر چیز ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے ۵۱۹