خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page vii
وہ انگلستان تھا۔میں نے اپنے بھائیوں سے بڑی وضاحت سے یہ کہا کہ خدا نے یہ کہا ہے کہ یہ کام کرو میں اُن سے اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کے مطابق یہ وعدہ کر کے آیا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پانچ سات سال کے اندر اندر تمہارے مُلکوں میں سولہ نئے طبی مراکز کھولوں گا اور کافی نئے سیکنڈری سکول کھولوں گا۔تعداد بھی میں نے بتائی تھی اس وقت مجھے یاد نہیں رہی بہر حال سولہ سے زیادہ ہی بتائی ہوگی۔اس کے لئے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ٹیچرز اور پروفیسروں کی ضرورت ہے۔اس کے لئے مال کی ضرورت ہے اور چونکہ خدا نے کہا کہ کم سے کم اتنا خرچ کرو اس لئے میں اپنے رب سے یہ امید رکھتا ہوں کہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے سامان وہ خود ہی پیدا کر دے گا اور مجھے ایک سیکنڈ کے لئے بھی گھبراہٹ نہیں کہ مجھے ڈاکٹر کہاں سے ملیں گے۔سکولوں میں پڑھانے والے ایم ایس سی لیکچررز کہاں سے آئیں گے۔سکولوں یا ہسپتالوں کی عمارتیں بنانے کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔خدا کی یہ منشاء ہے خدا کی منشاء پوری ہوگی۔ایک چیز کی مجھے فکر ہے اور وہ یہ میرا پہلا اعلان تھا وہاں سے آکر اور مجھے بھی اس کی فکر ہے تمہیں بھی اس کی فکر کرنی پڑے گی پیسہ بھی خدا دے گا اور آدمی بھی دے گا لیکن مجھے اور تمہیں یہ فکر کرنی چاہئے کہ ہم یہ حقیر قربانی جو اپنے رب کے حضور پیش کریں وہ قبول ہوتی ہے یا نہیں۔اس کے لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا ہماری ان حقیر قربانیوں کو قبول فرمائے۔(صفحہ ۶۴۰،۶۳۹ جلد ھذا) (۸) ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء کو جلسہ سالانہ کا اختتامی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش تھی کہ جماعت صد سالہ جشن منائے۔یعنی وہ لوگ جن کوسوواں سال دیکھنا نصیب ہو وہ صد سالہ جشن منائیں اور میں اپنی بھی اسی خواہش کا اظہار کرتا ہوں کہ صد سالہ جشن منایا جائے۔اس لئے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے اور میں نے بڑی دعاؤں کے بعد اور بڑے غور کے بعد تاریخ احمدیت سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اگلے چند سال جو صد حضرت پورا ہونے سے قبل باقی رہ گئے ہیں وہ ہمارے لئے بڑی ہی اہمیت کے مالک ہیں۔مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت پر اس معنی میں کہ آپ نے جو پہلی بیعت لی اور صالحین اور مطہرین کی چھوٹی سی جماعت بنائی تھی اس پر ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو سو سال گزر جائیں گے۔میں اس نتیجہ پر پہنچا