خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 677
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب ہمارا عقیدہ ایک ہے۔پس یہ پیغام ہے اس منصوبہ کا جو آج میں ساری اسلامی دنیا کو دے رہا ہوں۔اشاعت اسلام کا یہ وہ جامع منصوبہ ہے جسے میں نے مختصر بیان کر دیا ہے۔دنیا کا ہر منصوبہ روپیہ چاہتا ہے مثلاً جو براڈ کاسٹنگ اسٹیشن لگانے پر روپیہ خرچ ہوگا۔قرآن کریم کے تراجم پر روپیہ خرچ ہوگا۔سو زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت پر بہت رقم خرچ آئے گی۔ہر زبان میں مختصر سی کتاب پر بھی ۶۰،۵۰ لاکھ روپے کی لاگت کا اندازہ ہے۔سولہ سال میں یہ رقم جمع ہونی ہے لیکن سولہ سال پر پھیلا کر کام کرنے ہیں۔کچھ کام تو ابھی سے شروع کر دیئے جائیں گے۔مثلاً تراجم ہیں۔ان کی نظر ثانی کرانی ہے۔اگر غیر ہوئے تو وہ کہیں گے پیسے لاؤ۔ابھی حال ہی میں جس شخص نے فرانسیسی ترجمہ قرآن کریم پر نظر ثانی کی ہے وہ ہمارا مسلمان بھائی تھا لیکن ہم اسے پیسے دیتے تھے۔اب پھر احمد کی دوست اس کی دوبارہ نظر ثانی کر رہے ہیں۔بہر حال اس منصو بہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک معقول رقم کی ضرورت ہے۔اس کو ہم صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کا نام دیتے ہیں۔تو ہمیں اس فنڈ کے لئے رقم کی ضرورت ہے۔اس کی آخری شکل تو سولہ سال کے بعد بنے گی۔سر دست اس کے لئے جتنی رقم کی اپیل کرنا چاہتا ہوں وہ صرف اڑھائی کروڑ روپیہ ہے۔یہ رقم بظاہر بہت بڑی رقم ہے اس لئے بھی کہ جماعت دیگر مالی قربانیوں میں ان سولہ سال میں اگر اس معیار پر بھی چلتی رہے ( ویسے ہر سال آمد نیاں بڑھ رہی ہیں۔برکتیں بڑھ رہی ہیں قربانیوں کا جذبہ بڑھ رہا ہے ) تو ۲۵ ، ۲۶ کروڑ روپیہ اشاعت اسلام پر خرچ کر رہی ہوگی۔اس کے علاوہ میں نے اڑھائی کروڑ روپے کی اپیل کی ہے۔خدا تعالیٰ برکت ڈالے گا۔جماعت بڑھے گی یعنی چندہ دینے والے آئیں گے۔چندہ دینے والوں کی آمدنیاں بڑھیں گی۔یہ ۲۶، ۲۷ کروڑ کا اندازہ تو جماعت کی قربانیوں کا آج کا معیار ہے۔ہو سکتا ہے کہ جماعت اگلے سولہ سال میں اشاعت اسلام پر ۵۰ کروڑ روپے خرچ کرنے لگ جائے۔ہم مذہب کو کھیل نہیں سمجھتے اور نہ ہم دشمن کے اعتراض کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔ہمارے خدا نے ہمارے اندر ایک آگ لگا رکھی ہے کہ ہم نے اسلام کو مادی دنیا پر غالب کرنا ہے۔خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کی انسان کی طرف سے حقیر سی کوشش اس لئے کرنی پڑتی ہے کہ یہ خدا کا منشاء اور حکم ہے ور نہ کامیابی تو اس کے فضل سے حاصل ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ ہماری تھوڑی سی کوشش سے بے شمار