خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 676 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 676

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) 66 ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب تفاسیر ہیں۔ہر ایک کی اپنی عادتیں ہیں۔ہر ایک کے اپنے طریق عبادات ہیں۔کوئی آمین بالجھر کہتا ہے کوئی آمین بالخفی کہتا ہے۔مسلمانوں پر ایسا زمانہ بھی گذرا ہے کہ آمین بالجہر کہنے والے کی مسجد میں اگر اس فرقے کا آدمی آگیا جو آمین بالجھر نہیں کہتا تو وہیں اس کی گردن اڑا دی گئی۔اسی طرح آمین بالجھر نہ کہنے والوں کی مسجد میں آمین بالجہر کہنے والوں کی گردن اڑا دی گئی۔یہ اختلافات ہیں مگر لوگوں سے ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کے لئے یہ تو سوچو کہ ان اختلافات کے باوجود کتنے اہم وہ امور ہیں جن میں ہمارا اتحاد موجود ہے۔ہم تو حید باری پر افراد کی یا آدمیوں کی عادتیں بگڑ کر مشرکانہ شاید بن گئیں ہوں لیکن جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے اور زبان سے اقرار کا تعلق ہے ہم سب خدائے واحد ویگانہ پر ایمان لانے والے ہیں۔ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں ہم لا اله الا الله محمد رسول اللہ “ کہنے والے ہیں۔محمد رسول اللہ کو خاتم النبین مانتے ہیں۔ہر فرقہ خاتم النبیین کے معنے مختلف کر جائے گا لیکن کوئی شخص کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتا۔خاتم النبیین کے عقیدہ میں ہم سب متحد ہیں۔سارے فرقے قرآن کریم کی عظمت کا اقرار کم از کم زبان سے تو کرتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی نہیں کر رہا۔میں یہ کہتا ہوں کہ ایک دوسرے پر الزام نہ لگاؤ اور جب زبان سے اقرار کیا جار ہا ہے تو دل سے تسلیم کرو۔قرآن عظیم کی عظمت کو پہچانو اور اس کا اعلان کرو۔یہ ہمارا مشتر کہ عقیدہ ہے۔ہم قرآن کریم کو ایک کامل اور مکمل کتاب مانتے ہیں۔یہی ہمارے سب فرقوں کا عقیدہ ہے۔تمام فرقے قرآن کریم کو قیامت تک کے لئے کامل ہدایت نامہ سمجھتے ہیں۔پس اس سولہ سال کے عرصے میں ہم اسلام کے تمام فرقوں کو بڑی شدت کے ساتھ نہایت عاجزی کے ساتھ ، بڑے پیار کے ساتھ ، بڑی ہمدردی کے ساتھ اور غمخواری کے ساتھ یہ پیغام دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے کہ جن باتوں میں ہم متحد ہیں ان میں اتحاد عمل بھی کرو اور اسلام سے باہر کی دنیا میں توحید خالص کے پھیلانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو منوانے اور قرآن کریم کی شان کے اظہار کے لئے اکٹھے ہو کر کوشش کرو اور باہر جا کر آپس میں نہ لڑو تا کہ اسلام کو فائدہ پہنچے۔پھر اللہ تعالیٰ جن کے ذریعہ زیادہ کام لے گا یا جو دوسروں کو زیادہ قائل کرلیں گے یا جن سے ان کو زیادہ فیض پہنچے گا وہ نمایاں ہو کر سامنے آجائیں گے۔اس لئے نتیجہ خدا پر چھوڑ دو۔پس اتحاد عمل کرو، ان بنیادی اصولوں پر جن میں