خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 675
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب طرف سے بھی جو اس جلسہ میں شامل نہیں ہو سکے ان سب ( وفود) کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہتا ہوں۔امت واحدہ بنانے کے اس منصوبہ کا چھٹا حصہ یہ ہے کہ تصاویر کا تبادلہ کیا جائے۔مثلاً اب یہاں بھی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔گوان کی ابتدائی شکل ہے لیکن کام شروع ہو گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس سلسلہ میں البم تیار ہونے چاہئیں جو ملک ملک بھجوائے جائیں۔اس موقع پر بھی اور شوری کے علاوہ دوسرے اجتماعات کی تصاویر بھی البم کی صورت میں باہر بھجوائی جائیں اور اسی طرح مثلاً جماعتی تقریبات ہوتی ہیں۔نائیجیریا میں، غانا میں، آئیوری کوسٹ میں، لائبیریا میں سیرالیون میں۔ان کی تصاویر بھی یہاں آپ کے پاس پہنچنی چاہئیں۔وہ Still بھی ہوں یعنی بورڈوں پر لگا دی جائیں اور movies بھی ہوں جو پروجیکٹر پر دکھائی جائیں اور آپ کو پتہ لگے کہ احمدیت کتنی ترقی کر رہی ہے۔آپ یہ بات تصور میں نہیں لا سکتے کہ سالٹ پانڈ میں میں نے جو خطبہ جمعہ دیا تھا اس میں ہمارا اندازہ یہ ہے کہ ہمیں ہزار سے زیادہ احباب شامل تھے اور یہ بھی نمائندے تھے۔سارے دوست جمع نہیں ہو سکتے تھے۔اسی طرح سیرالیون میں ہزار ہا کی تعداد میں لوگ مجھے ملتے رہے ہیں اور وہ بھی مختلف جماعتوں کے نمائندے تھے۔نائیجیریا میں جہاں مجھے ایک ہی خطبہ دینا تھا اس جگہ جہاں نماز کا انتظام کیا گیا تھا دو رویہ کمرے تھے اور بیچ میں صحن اور ہال تھا۔غرض کمرے صحن اور ہال بھرا ہوا تھا۔ہر جگہ مجھے احمدی ہی احمدی نظر آرہے تھے اور وہ سب نمائندے تھے۔کیونکہ وہ ایک بڑا پھیلا ہوا اور وسیع ملک ہے اس لئے بہت کم نمائندے آ سکتے ہیں اور اقوام عالم کے جو وفود یہاں آئیں گے اگر ملکی قانون اجازت دیتا ہو تو مناسب مقامات پر شامل ہونے والے وفود کے قومی جھنڈے بھی لہرائے جائیں تا کہ اس طرح یہاں والوں کے ایک تو ع میں اضافہ ہو اور دوسرے ان قوموں کی اس طور پر عزت افزائی کی جائے۔اتحاد کے قیام کے لئے دو ورقہ اشتہارات کی بھی اشد ضرورت ہے۔کیونکہ اندرون ملک بھی اتحاد ضروری ہے ملک۔اندر دو ورقہ اشتہارات کی کثرت سے اشاعت اور اس کے لئے چھوٹے پر لیس قائم کرنا۔پنجم۔اور اس منصوبہ کی جو آخری بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ امت محمدیہ فرقے فرقے میں بٹ گئی ہے۔ہر ایک کی اپنی احادیث ہیں۔ہر ایک کی اپنی روایات ہیں۔ہر ایک کی اپنی